<cesDoc id="urd-w-translat-literature-lt15.utm" lang="urd">
<cesHeader type="text">
<fileDesc>
<titleStmt>
<h.title>urd-w-translat-literature-lt15.utm.txt</h.title>
<respStmt>
<respType>Electronic file created by</respType>
<respName>Central Institute for Indian Languages, Mysore</respName>
<respType>transferred into Unicode and CES format by</respType>
<respName>"Unicodify" software by Andrew Hardie</respName>
</respStmt></titleStmt>
<publicationStmt>
<distributor>UCREL (on behalf of CIIL)</distributor>
<pubAddress>Department of Linguistics, Lancaster University, Lancaster, LA1 4YT, UK</pubAddress>
<availability region="WORLD"></availability>
<pubDate>03-07-02</pubDate>
</publicationStmt>
<sourceDesc>
<biblStruct>
<monogr>
<h.title>Dramme</h.title>
<h.author>Zahid.</h.author>
<imprint>
<pubPlace>India</pubPlace>
<publisher>Unknown - Book</publisher>
<pubDate>1992</pubDate>
</imprint>
<idno type="CIIL code">lt15.utm</idno>
</monogr></biblStruct></sourceDesc></fileDesc>
<encodingDesc>
<projectDesc>Text collected for the CIIL Corpus, subsequently integrated into the EMILLE/CIIL Monolingual Written Corpora.</projectDesc>
<samplingDesc>Simple written text only has been transcribed. Diagrams, pictures and tables have been omitted. Sampling begins at page 37/.</samplingDesc>
<editorialDecl><conformance level="1"></conformance></editorialDecl>
</encodingDesc>
<profileDesc>
<creation><date>03-07-02</date></creation>
<langUsage>Urdu</langUsage>
<wsdUsage>
<writingSystem id="ISO/IEC 10646">Universal Multiple-Octet Coded Character Set (UCS).</writingSystem>
</wsdUsage>
<textClass>
<channel mode="w">print</channel>
<constitution type="composite"></constitution>
<domain type="public"></domain>
<factuality type="fiction"></factuality>
</textClass>
<translations></translations>
</profileDesc>
<revisionDesc></revisionDesc>
</cesHeader>

<text><body>

<p>                                    (37) 1</p>

<p>ہےں۔ اور اسے بوڑھا سمجھ کر نظر انداز کےا جارہا ہے۔ اس لےے وہ سب لوگوں سے اور 
خاص کر اپنی بےوی درودانہ 
سے حسد بھی کرا ہے۔ اور ان سب کو کچوکے دےتے رہنا اس کی فطرت مےں داخل ہوگےا 
ہے۔ ڈرامے کے 
دوران ہےمں اس بات کا اندازہ بھی ہوتا ہے کہ پروفےسر کا علمےت اور اسکالرشپ کا دعوائی 
بھی خاصا
کھو کھلا اور بے.بنےاد سا ہے۔ اور معموکی درجے کے استادوں کی طرح رےٹائرر  ہونے کے 
بعد وہ بھی کم 
و بےش غےر ضوری اور گمنام  شخصےت ہو کر رہ گےا ہے۔</p>

<p>	اسی اےکٹ مےں ہم پورفےسر کی بےوی دردانہ کو بھی زےادہ قرےب سے دےکھتے 
ہےں۔ وہ حسےن اور 
نوجوان ہے لےکن اس کے سامنے کوئی منزل مقصود نہےں۔ اور بقول ڈاکٹر سلمان کاہلی سے 
زندگی گزارنا 
اور سب کو اپنے حسن سے مسحور کرتے رہنا ہی اس کا واحد مشغلہ ہے۔ اس نے بہت کم 
عمری مےں پروفےسر
سے شادی کی۔ وہ اس کی علمےت اور شہرت سے مرغوب ہوگیئ تھی۔ اور اسی کو 
محبت سمجھ بےٹھی لےکن اب 
اس زندگی مےں خالی  پن کے علاوہ کچھ نہےں۔ اسے موسےقی سے دل چسپی تھی۔ 
لےکن پروفےسر سے شادی
کے بعد اس دل.چسپی کو بھی گھن لگا چکا ہے۔ وہ پروفےسر کو خوس رکھنے کی کوشش 
کرتی ہے۔ لےکن شوہر 
کی بدمزاجی، عجےب  و غرےب مطالبات، شکوے شکاےت، عطن و تشےنع اکثر اس کے نئے 
سوہان روح 
بن جات ےہں۔ وہ ڈاکٹر سلمان مےں اےک کشش محسوس کرتی ہے۔ لےکن اخلاقےات کے 
رسمی تصورات کے تحت 
اس سے دور دور رہتی ہے۔ صرف اےک بار (تےسرے اےکٹ مےں) وہ اپنے جذبات کے دھاے 
مےں بہہ نکلتی 
ہے اور ےکا ےک اسے احاسا ہوتا ہے کہ ڈاکٹر سلمان کی اور اس کی باہمی کشش اےک 
سنجےدہ صورت اختےار 
کر سکتی ہے۔ اس لےے وہ پروفےسر سے شہر واپس جانے پر اصرار کرتی ہے۔</p>

<p>	اسی منظر مےں ہم سلےمہ کو بھی زےادہ قرےب سے دےکھتے ہےں۔ پہلے ہم اسے 
حبےب اور سلمان کے 
ساتھ دکےھتے ہےں اور پھر وہ اپنی سوتےلی ماں سے، جو کم و بےش اسی کی ہم عرم 
ہے، سلمنا سے اپنی محبت کا 
اتعراف کرتی ہے۔ اس اےکٹ کا فطری پس منظررات کا وقت اور طوفانی کےفےت ہے۔ جو 
اےک علامتی 
اہمےت کی حامل ہے۔ اور کرداروں کی اندرونی کےفےات کا اشارےہ ہے۔ طوفان کی آمد کافی 
شدےد اور 
شور انگےز ہے لےکن ےہ طوفان ماحول پر پوری طرح اثر انداز نہےں ہوتا بلکہ قرےب سے 
گزر جاتا ہے۔ اور ےہ 
صورت حال بھی علامتی بعد رکھیت ہے۔ کےوں کہ اصل طوفان تو اگلے اےکٹ مےں آتا ہے۔ 
ےہ اور بات ہے 
کہ وہ بھی بعض اعابار سے چائے کی پےالی کے طوفان سے ملتا جلتا ہے۔
 
                                     (38) 2</p>

<p>	تےسرے اےکٹ کا پس منطر حوےلی کا سب سے بڑا ہال ہے جہاں پروفےسر نے سب 
لوگوں کو ضروری 
اعلان کرنے کے لےے بلاےا ہے۔ اور وہ اعلان ےہ ہے کہ وہ شہر مےں رہنے کے اکراجات  برداشت 
نہےں 
کرسکتا اور قصبے کی زندگی اس کے لےے ناقابل برداشت ہے اس لےے اس نے ےہ طے  کےا ہے 
کہ اس جاگےر کو 
فروخت کر کے شہر مےں اےک اچھی کوٹھی خرےدی جائے اور باقی روپے کے سود سے شہر 
مےں معفول رہائش کا 
خرچ پورا کےا جائے۔ اس تجوےز پر پروفےسر اور حبےب کے درمےان اختلاف رائے تلخ کلامی 
سے شروع
 ہو کر رفتہ رفتہ اےک طوفانی شکل اختےار کرلےتا ہے۔ حبےب کا کہنا ہ ےکہ جائداد اس 
کی مرحوم بہن کی 
ملکےت تھی اس لےے ےہ در اصل سلےمہ کی مےراث ہے۔ دوسرے ےہ کہ اگر ےہ جاگےر بک 
گئی تو وہ اپنی بوڑھی 
ماں اور سلےمہ کو لے کر کہاں جائگا۔ حبےب ےوں بھی بہت دل گرفتہ ہے کےوں کہ اسی 
منظر کے شروع مےں 
جب وہ دردانہ فرحت کے لےے خزاں کے پھولوںکا نادر تحفہ لے کر داخل ہوتا ہے تو اسے ڈاکٹر 
سلمان 
کے بہت قرےب دےکھ لےت اہے۔ سلےمہ بھی بہت اداس ہے کےوں کہ اسے بھی معلوم  ہوچکا 
ہ ےکہ سلمان اس سے 
محبت نہےں کرتا۔ بہر طور اس اےکٹ کا اختتام کاصے مےلوڈرامائی انداز مےں ہوتا ہے۔ بحث 
جب بدکلامی 
کی سکل اختےار کرلےتی ہے تو حبےب بھناےا ہوا کمرے سے باہر جاتا ہے اور پستول لے کر 
واپس آتا ہے۔ اور 
پروفےسر کو اپنی گولی کا نشانہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کا نشانہ دوبار خطا ہوتا 
ہے۔</p>

<p>	اگلے اےکٹ کا پس منظر حبےب کا معمولی سا کمرہ ہے۔ اور ےہ اکے ےا دور دن بعد 
ظہور پزےر ہوتا ہے 
اس دوران حبےب نے دو بار خود کشی کی کوشش کی لےکن دوسرے افراد کی کوششوں سے 
وہ ناکام رہی 
پروفےسر اور اس کی بےوی کے شہر واپس جانے کےی تےارےا مکمل ہوچکی ہےں اور سلمان 
بھی ہسپتال واپس 
جانے کے لےے بالکل  تےار ہے۔ کچھ چےر بعد  پروفےسر داخل ہوتا ہےاور اس کے اور حببے 
کے 
درمےان مفاہمت ہوجاتی ہے۔ اور حبےب اسے ےقےن دلاتاہے کہ اسے جائداد کی آمدنی باقاعہ </p>

<p>لملتی رہے گی اور سب معاملات پہلے کی طرح طے ہوتے رہےں گے۔ پروفےسر کچھ دےر 
اپنی علمےت کا رعب 
جھاڑنے اور سب لوگوں کو  پندو نصائح سے نواز نے کے بعد رخصت ہوجاتا ہے۔ دردانہ بھی 
اس
کے ساتھ جاتی ہے۔ سلمان بھی اپنے کام پر روانہ ہو جاتا ہے۔ اور اب ہم اس سےدھے 
سادے کمرے مےں 
فخرالنسا، بےگم کو مطالعے مےں غرق اور محمد شرےف، حکےمن، سلےمہ اور حبےب کو اپنے 
اپنا کاموں مےں مصروف
دےکتھے ہےں۔ طوفان گزر جانے کے بعد زندگی  اپنے معمول پر آچکی ہے۔ وہی قصبے کی 
محدود فضا وہی پرسکون 
 
                                     (39) 3</p>

<p>اور سست رفتار زندگی۔ ہاں حبےب اور سلےمہ دونوں بہت اداس اور دل گرفتہ ہےں۔ 
سلےمہ حبےب کو تلسی دےتی ہے 
اور حبےب کام۔ مسلسل کام مےں اپنے زخموں کا مداوا ڈھونڈتا ہے۔ سےلمہ بھی کام، جذمت 
روحانی تصورات 
اور دوسری دنےا کے دل خوش کن تصور مےں اپنے دھکوں کا مداوا ڈھونڈتی ہے۔ اور اسی 
منظر پر ےہ ڈراما 
اختتام پذےر ہوتا ہے۔ لےکن ڈراما دےکھنے کے بعد ہمارا ےہ احساس فزوں تر جوجاتا ہے کہ 
وسع تر ماحول کی 
گھٹن پس ماند گی  اور سمجای نابرابری کسی بڑے طوفان کی منتظر ہے۔</p>

<p>مجموعی طور پر حبےب ماموں ( جے جے وانےا) اےک تہ دار اور معنی خےز ڈراما ہے جو 
موضوعات، 
ساخت اور فنی گرفت کے اعتبار سے آبی پرندۂ سے زےادہ رچا ہوا اور کامےاب ہے۔ اس 
مےں 
علامتوں اور ڈرامے کی ہمہ جہت زبان کا استعمال بھی بڑے سلےقے سے کےا گےا ہے اور ےہ 
حساس کردار نگاری
نفسےاتی دردوں بےنی، سمجای بصےرتوں وار مستقبل کے اےک تخےل آفرےں تصور سے مالا 
مال ہے۔</p>

<p>6	تےن بہنےں 1900ئ</p>

<p>	تےن بہنےں چےخوف کا سب سے گہرا، سنجےدہ اور تہ دار ڈراما ہے جو اپنے دور 
کے ڈراموں مےں ہر اعتبار
سے افضل اور ممتاز ہے اور جس کا مقابلہ گےرائی، تہ داری، زندگی اور انسانی فطرت کے 
گہرے عرفان، سماجی 
اور آفاقی بصےرتوں کی تفہےم، زبان اور ترسےلی وسائی کے تخلےقی استعمال شاعرانہ 
خصوصےات اور معنی 
آفرےنی کے اعتبار سے صرف شےکسپےر کے ڈراموں سے کےا جاس سکتا ہے۔ اس قسم کے 
ڈرامے تجزےے کے 
لےے تو اےک طوےدل مقابلہ درکار ہوگا۔ اس لےے  ےہاں صرف چند مختصر اشاروں پر اکتفا 
کی جائے گی۔</p>

<p>	ےہ ڈراما تقےرباََ  چار سال پر محےط ہے۔ اور اس کا پس منظر شمالی روس کا اےک 
دور دراز قصبہ 
ہے ہاں اےک ملٹری رجمنٹ بھی قےام پزےر ہے۔ مرحوم جنرل پروزوروف کی تےن بےٹےاں 
ہےں اولگا
ماشا اور راےنا جن کی عمرےں ڈرامے کی ابتدا مےں بالترتےب 22، 28 اور 20 سال کی ہےں 
اور اےک 
بےٹا اندرے  جس کی عمر 26 سال ہے اور ان کے کشادہ اور خوب صورت مکان  مےں ےا 
اس کے سامنے سب 
مناظر پےش کےے گئے ہےں۔ تےنوں بہنےں تعلےم ےافتہ شائستہ اور مہزب مےں اور قصبے 
کے محدود ماحول
مےں خود کو اجنبی سا محسوس کرتی ہےں۔ وہ تنےوں خاص کراولگا اور ارےنا ماسکو 
جانے  کے خواب دےکھا 
کرتی ہے جس سے ان کی بچپےن کی خوشگوار ےادےں والبستہ ہےں اور جو ان کینظر 
مےں تہذےب تمدن شائستکی 
 
                                 (40) 4</p>

<p>اور لطف و سمرت کا گہوارہ ہے۔ اولگا اسکول مسٹرس ہے اور فطرتاََ سنجےدہ ہمدرد اور 
ذمہ.دار ہے
ماشا سب سے زےادہ حسےن اور حساس ہے اور بہت کم عمری ہی مےں اسکول ماسٹر کولی 
گان سے شادی کر کے جو 
محدود صلاحےتوں کا اکے مضحکہ خےز اور بے ضررسا انسان ہے، بڑی بے.دلی اور بے.کےفی 
سے دن گزار رہی ہے 
ارےنا کسی قدر الھڑ اور پرامنگ ہے اور کوئی کام کر کے کار آمد اور باعنی زندگی گزارنا 
چاہتی ہے۔ 30 سالہ 
شرےف اور پرجوش لےکن کم رو لفٹنٹ تو زن باخ ارےنا سے محبت کرتا ہے اور اس سے 
شادی کرنا 
چاہتا ہے۔ اےک اور فوجی افسر سولےونی بھی ارےنا سے  کافی جار حانہ انداز سے عشق 
کرتا ہے اور ارےنا ماسکو
جاکر اپنے خوابوں کے شہزادے سے ملنے اور اس کے عشق مےں گرفتار ہونے کے خواب دےکھ 
رہی ہے 
ان تےنوں کا بھائی اندرے  ذراڈھےلا ڈھالا قسم کا نوجوان ہے۔ وہ ماسکو جا کر پروفےسر 
بننا چاہتا 
ہے لےکن اس سلسلے مےں کچھ نہےں کرتا۔ ڈرامے کی ابتدا مےں وہ قصبے کی اےک نوجوان 
چھچوری سی لڑکی نتاشا
کے عشق مےں گرفتار نظر آتا ہے جو دوسرے اکٹ تک اس کی بےوی بن چکی ہے چے 
بوتکن حواےک ملٹری 
ڈاکٹر اور خاندان  کا پرانا دوست ہے اسی گھر مےں قےام پزےر ہے۔ اور اس عمر رسےدہ 
شخص نے جو اپنے پےشے کی 
ذمہ.دارےوں سے قطعی طور پر بے تعلق ہے۔ شراب نوشی جوے اور پرانے اخباروں کی ورق 
گردانی مےں زندگی سے 
فرار کا راستہ ڈھونڈلےا ہے۔ پرانی خامدہ انفسےا اور کاونٹی کاو نسل کا بہرا چپےاسی 
فےراپونٹ  بھی اسی سوشل گروپ 
سے وابستہ ہےں۔ اس بے.کےف سی فضا مےں لفٹنٹ کرنل واراشنےن کی آمد اےک خوشگوار 
ارتعاش پےدا کردےتی ہے 
ارو رفتہ رفتہ معنوں کی نئی تہےں کھلتی ہےں اور زندگی اور ماحول کے نئے امکانات 
ہمارے سامنے آتے ہےں۔ ذاتی 
زندگی کی محرومےوں اور پرےشانےوں کے باوجود 42 سالہ.واراشنےن بلند حوصلہ اور عالی 
ظرف ہے اور اےک 
دل.کش شخصےت کا مالک ہے۔ وہ ماحول اور عصری زندگی سے غےر مطمئن ہے لےکن 
زندگی کے لامحدود امکانات
ارو انسان کے روشن مستقبل کا تصور اس کو سر شار کر دےتا ہے۔ غالب کا ےہ شعر اس پر 
صادق آتا ہے۔</p>

<p>						ہوں گرمی نشاط سے تصور نغمہ سنج
						مےں عندلےب گلشن نا آفرےدہ ہوں</p>

<p>	عمر کے فرق کے باوجود ماشا اور واراشنےن اےک دوسرے کے لےے بے انتہا کشش 
محسوس کرتے ہےں اور والہانہ
طور پر اےک دوسرے کے قرےب آتے ہےں۔ </p>

<p>	دوسری طرف نتاشا کہ اس خاندان مےں داخل ہوت ےہےں تخےرےب کاری کا بھی اےک 
نےا سلسلہ شروع 
 
                                    (41) 4</p>

<p>ہوتا ہے۔ نتاشانہ صرف اپنے شوہر پر مکمل تلسط جماتی ہے اور اس کے حوصلوں اور 
منصوبوں کا خون کرتی 
ہے ےہاں تک کہ شادی کے بعد جلدہی کاونٹی کاونسل کے صدر پروٹو پوف سے مامشفہ بھی 
چلاتی ہے۔ بلکہ 
وہ تےنوں  بہنوں  کو بھی گھر اور جائداد سے بے.دخل کر کے اس پر بھی پوری طرح 
قبضہ جماتی ہے۔ مختصراََ ےہ کہ وہ 
نہ صفر قصبہ کے عامےانہ کلچر کی نمائندہ ہے بلکہ اس مادی کثافت اور ابتزال کی علامت 
بھی ہے جو بہر حال 
تہذےب، شائستگی  اور انسانےت کی بہترےن اقدار کو پسپا کرنے کے لےے کوشاں نظر آتا ہے۔</p>

<p>	ڈرامے کے پہلے اےکٹ مےں پس منظر گھر کا ڈرائنگ روم اور ہال ہے جو پھولوں سے 
ڑاستہ اور 
خوشگوار دھوپ سے بھرا ہوا ہے۔ وقت بارہ بجے دن اور مسوم بہار ہے موقع ارےنا کی 
سالگرہ پارٹی۔
اور ےہ سب تفصےلات اےک  خوشگوار اور پر امےد فضا کی تشکےل کرتی ہےں اور اےک 
علامتی بعد بھی رکھتی ہےں۔
اس اےکٹ مےں ہم سب کرداروں سے متعارف ہوت ےہےں اور اس کے اپسی رشتوں اور 
ڈرامے کی
صورت حال سے بھی اور اولگا اور دوسرے کرداروں کی ےادوں کے توسط سے ماضی کے 
دروازے بھی 
کھلتے ہےں۔</p>

<p>	دوسرے اےکٹ مےں کمرہ وہی ہے لےکن ماحول بدل چکا ہے۔ موسم سرما اور وقت 
شام ہے۔ کشادہ ہال
اب کافی بے ترتےب اور ےنم تارکی مےں ملفوف ہے اور چند شمعےں حل رہی ہےں انھےں 
بھی نتاشا بار بار آکر بجھا
 رہی ہے۔ اور ےہ سب تفصےلات علامتی معنوےت کی حامل ہےں۔ نتاشا اب اندرے کی 
بےوی  اور اس کے بچے 
کی ماں ہے اور ساتھ ہےی اپنے پرانے عاشق پروٹوپوف سے بھی  معاشقہ چلا رہی ہے ۔ 
موقعہ کارنوال پارٹی 
کے آنے کا انتظار ہے جو نتاشا کے حکم سے باہرہی  سے واپس کردی جاتی ہے اور ےہ واقعہ 
بھی معنی خےز ہے 
ارےنا اب پوسٹ آفس مےں کام کررہی ہے اور اپنے کام اور ماحول کی بے.حسی اور جہالت 
سے غےر مطمعئن ہے 
وہ بھی اب  اولگا کی طرح اکثر سر کے درد کی شکاےت کرتی ہے۔ اسی اےکٹ مےں نتاشا 
اپنے بچے کے لےے ارےنا 
سے اپنا کمرہ خالی کرنے اور اولگا کے کمرے مےں منتقل ہونے کا مطالبہ کرتی ہے۔ اگلے 
اےکٹ مےں وہ اپنے شوہر 
کو اس کا کمرہ خالی کرنے کا حکم  دےتی ہے تاکہ اس کی چھوٹی بچی (جو غالباََ 
پروٹوپف کی اولاد ہے) اس مےں آراہ 
سے رہ سکے۔ اندرے اپنے تعلےمی منصوبوں کو فرماوش کر کے پورے طور پر ہتھےار ڈال 
چکا ہے اور زندگی 
سے فرار حاصل کرنے کے لےے ڈاکٹر چے بوتکن کے نقش قدم پرچل رہا ہے۔ لےکن ان سب 
پرےشان کی حالات 
کے باوجود مسرت اور شاد مانی کی اےک لہر بھی اس تارےکی کوچےرتی ہوئی گزر رہی 
ہے۔ اس کا پہلا مظہر تو
 
                                   (42) 6</p>

<p>ماشا اور وار اشےن کی وہ لطےف اور دل.کش دوستی ہے جو اب رومانس کی سرحد مےں 
داخل ہورہی ہے اور 
دوسری وہ فلسفےانہ بحث جس مےں واراشنےن، توزن باخ اور ماشا خاص طور سے حصہ 
لےتے ہےں۔ اور جس کے 
موضوعات زندگی کی نوعےت اس کے معنی اور مقاصد، وقت اور تبدےلی اور زندگی اور 
ماحول پر اس کے 
اثرات، انسانی زندگی کی حدود ارو امکانات انسانےت کا روشن مستقبل ارو اس جہان نو 
کی تعمےر مےں انسانی
کی اجتماعی اور انفرادی ذمہ.دارےاں، تعلےم تہذےب، سائنس اور ا کے دور رس اپرات 
وغےرہ ہےں اور 
ےہ بحث در اصل پہےل اےکٹ ہی مےں  شورع ہوچکی ہے۔ اور مختلف سطحوں پر آخری 
اےکٹ تک
جاری رہتی ہے۔</p>

<p>	اگلے اےکٹ کا پس منطر اور لگا کا مختصر سا بےڈروم ہے جس مےں اب اےنا بھی 
منتقل ہوکچی ہے 
اور جس کا مجموعی تاثر جگہ کی کمی اور فرنےچر اور لوگوں کی زےادتی ہے۔ اپنے 
ابائی مکان مےں ان بہنوں کی 
زندگی روز بروز سمٹی جارہی ہے۔ اس اےکٹ کی صورت حال قصبے مےں لگی ہوئی وہ 
آگ ہے جس کے 
شعلے کھڑکی سے دےکھے جاسکتے ہےں اور ےہی اس اےکٹ کی مرکزی علامت بھی ہے، جو 
اےک طرف تو اس 
سلگتی ہوئی آگ کا اشارےہ ہے جو رفتہ رفتہ اس خاندان کو اپنی لپےٹ مےں لے رہی 
ہے۔ اندرے کی زندگی 
کا المےہ، اولگا اور اےنا کی تنہائی اور بے.بسی اور رفتہ رفتہ ان کے خوابوں کا چکان چور 
ہوجانا، ماشا کی 
وارشنےن  سے والہانہ محبت جس کا انجام جدائی اور رجن و الم کے سوا کچھ نہےں اور 
تخےرب کاری کا وہ مسلسل
عمل جس مےں نہ صرف افراد بلکہ اقدار بھی کچی جارہی ہےں۔ اور جب نتاسا شمع لےے 
اےک دروازے سے
داخل ہوتی ہے اور دوسرے سے نکل جاتی ہے  تو ماشا بے.اختےار کہہ اٹھی ہے کہ ےہ تو 
اس طرح ادھر سے 
ادھر جارہی ہے گوےا ےہ آگ اسی نے لگائی ہو تو ہم محسوس کرتے ہےں کہ زےادہ 
گہرے معنوں مےں ےہی 
بات سچ ہے.... دوسرے اس حادثے کے توسط سے مختلف کرداروں کی شخصےت کی تہےں 
کھلتی 
ہےں۔ اولگا کی مصےبت زدہ لگوں سے گہری ہمدردی اور دےادلی، نتاشا کا نو دےو لےتا 
انداز، مصنوعی 
جذبات ارو نفسےات سے ظالمانہ برتاو اندرے کی پروی صورت حال سے بے  تعلفیواراشَےنےن 
کا ذاتی 
نقصان کے باوجود ماشا کی محبت اور مستقبل کے توصر سے سرشار ہونا اور چے بوتکن کا 
اس موقعہ پر 
شراب کے نشے مےں مست موکرنا قابل بےان سچائےوں کا اظہار۔ غرض کہ ےہ حادثہ جو اےک 
ہمہ جہت
علامت ہے۔ کرداروں کی داخلی کےفےات اور ڈرامے کے اندرونی اےکشن کو بے.نقاب کرتا ہے۔
 
                                       (43) 7</p>

<p>اسی اےکٹ مےں ماشا اپنی بہنوں سے اپنی محبت کا اقرار کرتی ہے اور ارےنا اولگا کے 
مشورے سے توزن 
باخ سے شادی کا فےصلہ کرتیہے۔ </p>

<p>	تےسرے اور چوتھے اےکٹ کے درمےان بھی اےک سال سے زےادہ کا وقفہ ہے۔ اولگا اب 
ہےڈ مسٹرس 
ہوگئی ہے اور انفسےا کے ساتھ اسکول ہی مےں رہتی ہے۔ ارےن اشادی کر کے توزن باخ 
کے ساتھ جانے 
والی  ہے اور اس کا سامان پورٹےکو کے قرےب رکھا ہوا دےکھا  جا سکت اہے۔ ملڑری 
رجمنٹ کا تبادلہ ہوگےا ہے 
اور بہت جلد وہ قصبہ چھوڑ کر جانے والے ہےں۔ اس اےکٹ کا پس منظر مکان کا سامنے کا 
حصہ اور 
کشادہ غےر رسمی باغ کا اےک حصہ ہے۔ موسم خزاں اور موقع رخصتی ہے اور ےہ سب 
تفصےلات بھی علامتی 
معنوےت کی حامل ہےں۔ تےنوں بہنےں اب کوٹھی کے باہر ہےں اور بھائی  اندرے ناتشا 
کی بچی کی پرام باغ 
مےں گھما رہا ہے جو اس کی بےوی کے عاش ق کی اولاد ہے۔ گھر اور جائداد پر نتاشا 
کا تسلط مکمل ہوچکا 
ہے۔ اندر اس کا عاشق براجمان ہے اور ہال سے عامےانہ قسم کے بھونڈے گانوں کی آواز 
آرہی ہے 
نتاشا ارےنا کے چلے جانے کے بعد حسےن اور پر وقآر درختوں کو کٹوانے  اور ان کی جگہ 
نمائشی قسم کے 
پھول لگوانے کے منصوبے بنارہی ہے۔ اسی اےکٹ مےں توزن باخ سولپونی کے ساتھ لڑائی 
کے 
مقابلے مےں مارا جات اہے۔ اور بچے بوتکن جو اس موقع پر ڈاکٹر کی حےثےت سے موجود 
ہے اس المےے کو 
رونےک کی کوشش نےہں کرتا۔ اس اےکٹ کا سب سے پر اثر مناظر  اندر کی بہرے 
چپراسی کے سامنے 
وہ تقرےر ہے جس مےں وہ اپنے ماحول کی ےکسانےت، سماجی پس ماندگی اور اخلاقی 
ابتزال کی تصوےر  کھےنچتا ہے 
اور ماشا اور واراشنےن کی جدائی ہے اور اس المناک لمحے کے بعد ماشا کا اپنے شوہر کی 
عجےب و غرےب
حرکتوں پر آنسووں اور سسکےوں  کے درمےان  ہنسنا چےخوف کے فن کا انوکھا کرشمہ ہے۔ 
اور اےکٹ کے 
آخر مےں وہ از سر نو زندگی شروع کرنے کا عہد کرتی ہےں۔ اور غم کے معنی اور 
کائنات کے اسرار و 
رمزو سمجھنے کی کوشش کرتی ہےں اور ےہ امےد کرتی ہےں کہ ان کے رنج اور ناکامےاں  
آنے والی نسلوں  کے 
لےے سکون اور مسرت پہلو کا اشارےہ ہے۔ ساتھ ہی عقب مےں چے بوتکن کی بے.حسی اور 
کلبےت اور اندارے
کا دھےرے دھےرے پرام گمھنا اس کی مکمل پسپائی اور ڈرامے کی منفی صورت ال کا 
اشارےہ 
 
                                     (44) 8</p>

<p>ہے۔ اس طرہ زندگی کے اےک گہرے متوازن اور فکر انگےز وژن Vision کی تجسےم پر ےہ 
ڈراما اختتام 
پزےر ہوتا ہے۔</p>

<p>	ماسکو اس ڈرامے کی مرکزی علامت  ہے۔ جو ماضی کی چمک دار ےادوں اور 
مستقبل کے دھندے 
خوابوں کا اشارےہ ہے۔ جس کا محدود دائےرہ ذاتی مسرت کی تلاش ہے۔ پہلے اےکٹ مےں 
ےہ تصور تےنوں بہنوں 
کے ذہن پر پوری طرح چھاےا ہوا ہے۔ دوسرے اےکٹ مےں بار بار اس کی باز گشت سنائی 
دےتی ہے۔ تےسرے
اےکٹ مےں اس خواب کے چور چور ہوجانے  کا منظر اداسی کی کےفےت پےدا کرتا ہے اور 
چوتھے اےکٹ مےں اس کا 
کوئی ذکر نہےں جو ان کے اس دھندلے خواب سے ماورا جانے کے مترادف ہے۔ لمحہ حال اور 
ماحول سے گہری 
وابستگی اور انسانےت کے مستقبل کا اےک وسےع تر ارو زےادہ معنی خےز تصور جس کے لےے 
ذاتی زندگی کی مسرتوں 
کی قربانی دےنی ہوگی، ان کے آخری الفاظ مےں مےں منعکس  ہے۔</p>

<p>	دوسری اہم ارو پےچےدہ علامت موسموں کا مکمل دائرہ ہے جو نہ صرف ہر اےکٹ 
کی اےک مرکزی 
علامت ہے بلکہ پورے ڈرامے کو اطوری طرز احساس اور طرز فکر سے منسلک کرتا ہے۔ 
آخری اےکٹ کی 
خزاں صرف پت چھڑ اور جدائی کا موسم نہےں بلکہ نگلش کے ماےہ ناز شاعر جون کےٹس
کی خزاں (To Autumn) کی طرح پھلوں کے پکنے اور رس دار بننے کا 
موسم بھی ہے۔ تےنوں بہنےں غم واندوہ کی آنچ مےں تپنے کے بعد شعور کی پختگی 
اور احساس کو توانائی 
کی منزل مےں قدم رکھ رہی ہےں۔ </p>

<p>	تےن بہنےں آفاقی بصےرتوں کے ساتھ ساتھ سمجای بصےرتوں سے بھی مالا مال 
ہے۔ اور نہ صرف ماحول 
کی پس مندگی  بے.حسی، جہالت، تنگ نظری اور اخلاقی ابتذال کا منظر  ابھر کر سامنے 
آتا ہے بلکہ ےہ احساس 
بھی سر اٹھاتا ہے کہ اس پس ماندہ اور دو رافتا دہ قصبے مےں بھی ترقی اور روشن 
خےالی کی کونپل پھوٹ
#سکتی ہے۔</p>

<p>	 اور آخر مےں مےں اس بات کی طرف اشارہ کرنا بھی ضروری ہے کہ اپنی 
تہ.داری اور اثر نگےز مےں ےہ.ڈراما
چےخوف کے اور سبی ڈراموں سے زےاہ ہے اور چےخوف کے ڈراموں کی جن سمفونک
Symphonic #
خصوصےات ی طرف پہلے اشارہ کےا جا چکا ہے وہ بھی اسی ڈرامے مےں سب سے زےاد 
#نماےاں اور جاذب توجہ ہےں۔
 
                                    (45) 9</p>

<p>پورا ڈراما گونا گوں موضوعات، اکفار. ذہنی کےفےات، جذبات، احساسات تخےل اقرےں 
#تصورات 
معنی خےز علامتوں اور بصےرت افروز اشاروں کا اےک دل کش منظر نامہ ہے جو سب اےک 
#دوسرے مےں 
پےوست ہےں اور جنھوں نے اس ڈرامے کی شاخت کو اےک سمفنی Symphony سے قرےب 
#تر کرےا 
ہے۔ اور اس منظر نامے کی تشکےل مےں تھےڑکی ہمہ جہت زبان اور مالا مال ترسےلی 
#وسائی کا استعمال بہت ہی 
تکلے آفرےں اور شاعرانہ ہے۔</p>

<p>6	چےری کا بغ (1903ئ) </p>

<p>	چےری کا باغٔ انتون چےخوف کا غالباََ سب سے مشہور اور ہر دل عزےز ڈراما ہے۔ 
#اور بعض اعتبار 
سے ان کی ڈرامائی تکلےقات مےں منفرد ارو ممتاز ہے۔ اس مےں طنز و مزاح کی لہر 
#زےادہ نماےاں اور تابنک 
ہے اور چےخوف کے شاہکار ڈراموں مےں کومےڈ ی ےا طربےہ کے تصور سےےہی سب سے زےادہ 
قرےب ہے 
اور اس سلسلے مےں جو بات زےادہ قابل حےرت ہے وہ بہ کہ چےخوف نے ےہ ڈراما اس وقت 
#لکھا جب وہ 
تپ دق  سے بالکل نڈھال ہوچکے تھے۔ اور خود ان کی زندگی کی شمع ٹمٹما رہی تھی 
#لےکن ےہ ڈراما شروع 
سے آخر تک تخلےقی توانائی اور زندہ دلی کا نمونہ ہے۔ دوسرے ےہ کہ اس ڈرامے مےں 
#موضوع اور مواد پر 
چےخوف کی فنی گرفت بہت مضبوط ہے اور گوکہ چےری کا بغ تےن بہنےں کے مقابلے 
#مےں کافی مختصر ہے 
لےکن اس کا مرکزی خےال بڑھی خوبی سے ابھر کر سامنے آتا ہے اور اس کا وژن 
Vision# بہت 
شفاف ہے۔ اور تےسری اہم بات ےہ ہے کہ عصری مسائل اور سمجای اور معاشی عوامل کو 
#جو چےخوف کے سبھی 
شاہکار ڈراموں مےں کسی نہ کسی حدتک منعکس ہےں اس ڈرامے مےں مرکزےت حاصل ہے 
#اور ےہ مکرزی موضوع 
جاگےرداری نظام کا زوال اور سرماےہ داری نظام کا عروج ہے۔ لےکن سماجی تبدےلےوں کی 
#اےک پر اثر اور 
کامےاب پےش کش اور سماجی بصےرتوں کے عرفان کے ساتھ ہمےں اس ڈرامے مےں وسےع 
#تر افاقی 
بصےرتوں کا عکس بھی ملتا ہے۔</p>

<p>	ڈرامے کی مرکزی صورت حال جاگےردار خاتون رانو سکا ےا ارو اس کے بھای گاوےوں 
#کی جائداد 
ارو چےری کے باغ کا، (جو قرضَے مےں جکڑی ہئی ہے) نےلام ہے اور چےری کا باغ ہی اس 
#ڈرامے کی 
مرکزی علامت ہے، جس پرکچھ دےر بعد روشنی ڈالی جائے گی۔ اس خاندان کے افراد مےں 
#رانوسکاےا
 
                              (46) 10</p>

<p>اس کا بھائی گاوےو سترہ سالہ بےٹی آنےا، منھ بولی بےٹی وارےا اور متعدد نوکر چاکر 
#شامل ہےں۔ اور ےہ سب ہی 
کافی بے.ضرر لےکن انتہائی بے عمل اور کم و بےش مصحکہ خےز قسم کے لوگ ہےں۔</p>

<p>	رانو سکاےا جو اےک ڈھلتیہوئی عمر کی حسےن عورت ہے۔اپنے شوہر کی موت اور 
#بچے کے حادثے 
کے بعد اپنے ناکارہ عاشق کے ساتھ پےرس مےں دن گزار رہی ہے اور وہاں جائداد کی دن 
#بہ دن گھٹتی
ہوئی آمدنی کو انھدا دھند خرچ کر رہی ہے۔ اےک پرےشان کن صورت حال سے فرار کا 
#اس کے پا 
ےہی سب سے کارکر راستہ ہے۔ جائداد کے نےلام کی بات سن کر وہ واپس روس ضرور آتی 
#ہے۔ لےکن 
آتے ہی بچپن کی معصوم ےادوں مےں کھوجاتی ہے اور اپنے مسائل کو اپنے گناہوں کی 
#سزا سمھ کر ان کی 
طرف سے آنکھ بند کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ےہاں تک کہ جب نوجوان سرماےہ دار 
#لوپا خن اس کے 
سامنے اس بہران سے نکلنے کی اےک ٹھوس تجوےز رکھتا ہے وہ اس کی طرف توجہ نہےں 
#دےتی۔ کےوں کہ اس 
کے خےال مےں پورے علاقے مےں اگر کوئی حسےن اور قابل ذکر چےز ہے تو وہ ان کا 
#چےری کا باغ ہے۔ اور اسے 
کٹوا کر اس زمےن کے پلاٹ کرائے پردےنے کا خےال اس کے لے نہاےت مضحکہ خےز  اور ناقابل 
#فہم ہے 
اس کا بھی گاو ےوسفی صدی اس کا ہم خےال ہے۔ وہ بھی ذہنی طور پر کاہل اور بے 
#عمل انسان ہے۔ اور 
اور بلےرڈ کا کھےل، محصوص  کھانے اور مٹھائےاں  اور پچھلی نسل کی اصلاحی تحرےکےں 
#اس کے لےے حقےقٹ 
سے فرار کا وسےلہ ہےں۔ اور ان اصلاحی تحرےکوں پر لمبی چوڑی بے.تکی  بخشےں کرنا 
#اس کا خاص مشغلہ ہے 
اپنی بہن کی طرح وہ بھی ماحول سے کٹا ہوا اور تےز رفتار سماجی تبدےلےوں سے 
#بے.خبر ہے۔</p>

<p>	رانوسکاےا کی کم عمر لرکی آنےا الھڑ اور معصوم ہے وہ انقلاب پسند طالب علم تروفی 
#موف کے خےالات
سے متاثر ہوتی ہے۔ اور اس کے زبر اثر اپنے ماحول اور اپنے خاندان کے ماضی کو اےک نئے 
#انداز سے دےکھنے کی 
کوشش کیرتی ہے۔ اس کا جوش اور ولولہ قابل تعرےف ہے لےکن بنےادی طور پر زندگی 
#کی طرف اس کا روےہ بھی 
بے.حد جذباتی اور بچکانہ قسم کا ہے۔</p>

<p>	رانوسکاےا کی منھ بولی بےٹی وارےا جسے ان نامسا عدحالات مےں گھر چلانا پڑ رہا 
#ہے۔ ہر طرف سے کٹوتی 
کر کے پائی پائی بچاتی ہے اور  خودرانوسکاےا ان گھرےلو اور معاشی مسائل سے بےنےاز ہر 
#طرف سونے اور چاندی 
کے سکے لٹاتی پھرتی ہے۔ جفاکش وارےا کے لےے بھی ےہ سب مسائل ناقابل فہم ہےں اور 
#وہ مذہبی تصورات مےں 
راہ فرار ڈھونڈتی ہے وہ لوپاخن کوچاہتی ہے لےکن اس سلسلے  مےں بھی خود کو مجبور 
#پاتی ہے۔
 
                                       (47) 11</p>

<p>	مجموعی طور پر ےہ سب لوگ خود کو بدلتے ہوئے حالات سے ہم.آہنگ کرنے مےں 
#ناکام رہے ہےں اور 
ان سب سے زےادہ بے تکاشخص سمےنوف پشک ہے جس کی جاگےر اور بھی ابتر حالات 
#مےں ہے اور اس نے ہر اےک 
کے سامنے دست دوال دراز کرنا اور قرض پر گزارا کرنا اپنا طرہ امتےاز بنالےا ہے۔ عقل و 
#شعور سائنس اور 
عملی مسائل سے وہ دور کا واسطہ رکھنا بھی پسند نہےں کرتا۔</p>

<p>	خاندان کے نوکر بھی کم و بےش مالکوں  کا چربہ ہےں۔ رانوسکاےا کی طرح انگلش 
#گورنس شارلوٹا بھی 
اےک گم شدہ شخصےت ہے، جو اپنے ماضی سے بے.خبر ہے ےہاں تک کہ اسے اپنی عمر بھی 
#معلوم نہےں۔ جادو کے 
تماشے دکھا کر لوگوں کو حےرت مےں دالنا اس کا خاص مشغلہ ہے۔ اور ہم ےہ محسوس  
#کےے بغےر نہےں رہ سکتے کہ اس 
کی مالکن کا خاندان  بھی اس سے زےادہ مختلف نہےں۔ وہ سب بھی کسی اےسے حےرت 
#انگےز معجزے کے انتظار 
مےں ہےں جو ےکا ےک ان کی جائداد کو بچالے گا اور سب مسائل خود بخود حل 
#ہوجائےںگے... رانوسکاےا 
کا خاصل ملازم ےا شاجو پےرس سے اس کے ساتھ آےا ہے، خود کو سب سے بلند و برتر اور 
#روسی لوگوں کو جاہل 
اور پس ماندہ تصور کرتا ہے۔ عادات و اطوار مےں وہ عالباََ رانوسکاےا کے عاشق کا چربہ ہے۔ 
#بےکار ادھر 
ادھر گوھمنا، مفت کی شراب اڑانا اور وقت گزاری کے لےے عشق لڑانا اس کا خاص مشغلہ 
#ہے..... نوجوان 
ملازمہ دونےاشا خود کو کسی نواب بےگم سے کم نہےں سمجھتی۔ اپنے لباس اور مےک اپ 
#پر خاص توجہ دےنا، اپنے نازک 
اور حساس ہونے کا بےان اور بات بات  پر بے ہوش ہوجانے کا پور بنانا اس کے خےال مےں 
#نوابی تہزےب کا 
ٹرےڈ مارک (طرہ امتےاز) ہے۔ جاگےر پر کام کرنے والا بے.وقوف اور گنجلک قسم کا کلرک 
#جو گےارہ دونی 
بائےس مصےبتوں کے نام سے جانا جاتا ہے اس کی انہےں ادوں پر مرتا ہے۔ اور وہ خود 
#ےا شاکے ولاےتی 
انداز اور اس کے بے سروپا ڈےنگوں سے متاثر ہو کر اس پر سوجان سے عاشق ہوجاتی 
#ہے.... خاندان 
کا پرانا اور وفادار نوکر فےرس جواب بالکل بوڑھا ہوچکا ہے، ماضی کو اپنا آئےڈےل بنائے 
#ہوئے ہے 
اور اس کے خےال مےں غلامی کے خاتمے کے بعد زندگی بالکل اتھل پتھل اور بے.معنی سی 
#ہوگئی ہے اور 
اب کوئی چےز بھی اپنی جگہ پر نہےں ہے۔ حال کی حقےقتوں سے وہ بھی بالکل بے.خبر 
#ہے۔</p>

<p>	اس ڈرامے کے دو مثبت کردار لوپاخن اور تروفی موف ہےں...... تروفی موف انقلابی 
#خےالات 
رکھنے والا اےک غرےب طالب علم ہے جو ذاتی مسائل سے بے نےاز مستقبل کے حسےن تصور 
#سے سرشار ہے 
وہ رانوسکاےا کر مرحوم بچے کا اتالےق رہ چکا ہے اور اسے اس خاندان سے ہمدردی ہے لےکن 
#وہ ان کے 
 
                                 (48) 12</p>

<p>طرز زندگی اور جاگےرداری نطام پر کڑی تنقےد بھی کرتا ہے۔ وہ اےک اےسے نظام کے خواب 
#دےکھتا ہے جس 
کی نےناد سماجی برابری اور انسانی مسرت پر ہو اور جس مےں بڑی مچھلےوں کو 
#چھوٹی مچھلےوں  کے کھا جانے 
کا اختےار نہ ہو۔ لےکن تروفی موف کا روےہ کافی جزباتی قسم کا ہے اور اس کے خےالات 
#مےں انتہا پسندی 
کی جھلک ہے، انقلاب سے اس کی دل چصپی بھی بڑی حد تک صرف نظرےاتی قسم کی 
#ہے۔ عملی  مسائل اور 
گروپےش مےں رونما ہونے والی سماجی تبدےلےوں  مےں اسے زےدہ دلچسپی نہےں۔ 
#چےخوف نے ذاتی طور 
پر بھی اسے کچھ مضحکہ خےز قسم کا دکھاےا ہے۔ وہ اےک کرم خوردہ دائمی طالب علم 
#ہے جو خود کو محبت سے
بالا تر سمجھتا ہے۔ اور اکثر رانوسکاےا اور ادوسرے کرداروں کے طنزو مزاح کا نشانہ بنتا 
#ہے۔</p>

<p>	دوسری طرف لوپاخن اےک کسان کا لڑکا ہے جس کا دادا اےک غلام تھا اور اسی 
#جائداد سے وابستہ 
دکان دار اور دادا غلام تھے) اور جس  نے اپنی محنت اور ذہانت کے بل بوتے پر ترقی کی 
#کئی منزلےں طے 
بھی رکھتا ہے۔ اور زندگی کے حدود امکانات اور تےز رفتار سمجی تبدےلےوں پر بھی 
#گہری نظر رکھتا 
ہے۔ اسے رانوسکاےا کے خاندان  سے گہری ہمدردی ہے اور وہ اس بحران سے نکلنے کا اےک 
#ٹھوس  منصوبہ 
ان کے سامنے رکھتا ہے۔ لےکن جب کوئی اس کی بات پر دھےان نہےں دےتا تو ےہ جائداد 
#اور چےری کا باغ
وہ خود نےلام مےں کرےدتا ہے۔ اور اس انوکھی کامےابی سے اس پر نشہ سا طاری ہوجاتا 
#ہے۔ وہ وارےا 
کو پسند کرتا ہے۔ لےکن رانوسکاےا کی کوشش کے باوجود اس سے شادی کی درخواست  
#نہےں کرتا۔ بلکہ صفر 
اس سے الٹے سےدھے مذاق کر کے اس پسندےدگی کا اظہار کرت اہے۔ کچھ نقادوں کا خےال 
#ہے کہ وہ وارےا 
کی سوشل پوزےشن سے مرعوب ہے اس لےے اس سے شادی کی درخواست  نےہں کرسکتا۔ 
#لکےن ےہ درست 
نہےں۔ وارےا جو اےک غرےب خاندان کی لڑکی ہے۔ وہ رانوسکاےا کی منھ بولی بےٹی ضرور 
#ہے۔ لےکن اس خاندان 
مےں اس کی حےثےت اےک غرےب رشتہ.دار سے زےادہ نےہں۔ در اصل لوپاخن اپنے کاروبار 
#کو پھےلانے اور دولت 
کی افزائش مےں اس قدر مصروف ہے کہ ذاتی زندگی  کی طرف توجہ کرنے کا اس کے 
#پاس وقت ہی 
نہےں۔ اور اسے خود بھی اس بات اک احساس ہے۔ چےخوف  نے لوپاخن کو بڑی ہمدردی 
#سے اےک مثبت
کردار کی حےثےت سے پےش کےا ہے اور اس کا رشتہ صنعت و حرفت اور سائنس کی ترقی 
#سے جوڑا ہے۔
 
                                   (49) 12</p>

<p>لےکن سرماےہ.دار نظام کے بہترےن مظاہر مےں بھی دولت قدراول کی حےثےت رکھیت ہے۔ 
#ےہ بات
بھی چےخوف کی نظر مےں تھی۔ اور اسی لےے ان کا ےہ ہےرو اپنی تمام خوبےوں کے 
#باوجود اےک نامکمل قسم کا 
انسان ہے اور اپنے جذبات کو پس پشت  ڈال کر ہی وہ ترقی کی منزلےں طے کر سکتا 
#ہے۔</p>

<p>	ڈرامے کا پہلا اےکٹ رانوسکاےا کے آبائی مکان کی نرسری مےں پےش کےا گےا ہے اور 
#ےہ پس منظر 
علامتی اہمےت کا حامل ہے کےوں کہ ےہ سب کردار جوان ےا عمر رسےدہ ہونے کے باوجود 
#ذہنی طور
 پر بچوں سے زےادہ مختلف نہےں۔ اور حقےقت سے نظرےں چرانا ان کا طرح امتےاز ہے۔ 
#نرسری 
کی کھڑکی سے چےری کا  باغ نظر آرہا ہے جس مےں اےک سرے سے دوسرے سرے تک 
#سفےد پھول 
کھلے ہوئے ہےں۔ موسم بہار اور وقت طلوع آفتاب سے کچھ پہےل ہے۔ موقع رانوسکاےا کی 
#پےرس سے 
واپسی ہے جس کے وسےلے سے ہم تقرےباََ سبھی کرداروں سے متعارف ہوجاتے ہےں۔</p>

<p>	دوسرے اےکٹ کا پس منظر جائداد سے ملحق  اےک لق ودق مےدان ہے جس مےںصرف 
#اےک 
توٹا ہوا ساکنواں اور ےک فبر ماحول کی ےکسانےت کو کم کررہے ہےں۔ مےدان کے اےک طرف 
#ذرا 
دور پر چےری کے باغ کے حدود نظر آرہی ہےں اور دوسری طرف کافی دور اےک صنعتی  
#شہر کے دھندلے 
خدو خال دےکھے جاسکت ےہےں۔ موسم گرما اور وقت غروب  آفتاب سے کچھ پہلے ہے۔ 
#غروب آفتاب 
کے بعد چےری کا باغ اندھےرے مےں دوب جاتا ہے اور سنعتی شہر کے خدو خال جھلملانے 
#لگتے  ہےں۔
ےہ مشہور ڈرامائی منظر اور شہر سے آتی ہوئی اےک عجےب و غرےب آواز گہری علامتی 
#اہمےت کی 
حامل ہےں۔ گوےا ہم جاگےرداری نطام کے زوال اور سنعتی دور کے عروج کو اپنی نظروں 
#کے سامنے  اےک 
ڈرامئی سانچے  مےں ڈھلتا ہوا دےکھتے ہےں۔ اور ان کے بے.عملی، ذہنی پراگندگی اور 
#حقےقت سے فرار کا 
تاثر اور بھی گہرا ہوجاتا ہے۔ لوپاخن پھر اپنی تجوےز پےش کرتا ہے اور پھر اسے بے  
#سوچے سمجھے رد کردےا 
جاتا ہے۔ نوکروں کا منظر جس سے ےہ اےکٹ شروع ہوتا ہے، کئی اعتبار سے دل چسپ اور 
#قابل توجہ 
ہے۔ا ور سارلوٹا کی تقرےر کو اگر البسرڈ ڈرامے کا پہلا مختصر مےنی فسٹو ےا منشور کہ ا
جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ اسی اےکٹ مے ہم تروفی موف کے انقلابی خےالات سے بھی 
#متعارف ہوتے
ہےں۔ تروفی موف اور آنےا کے پرجوش اور جذباتی مکالمے پر ےہ اےکٹ ختم ہوتا ہے۔ 
#بلاشبہ ےہ اےکٹ
 
                                (50) 13</p>

<p> شاعرانہ حقےقت نگاری کا نقطہ عروج ہے اور فنی اعتبار سے اےک معجزے سے کم نہےں۔</p>

<p>	تےسرا اےکٹ شاندار مکان کے سب سے بڑے ہال مےں پےش کےا گےا ہے۔ موسم خزاں 
وقت
شام اور  موقع ےہودی بےنڈی کے اعزاز مےں اےک ڈانس پارٹی ہے جس مےں سب کردار 
اےک اضطراری 
کےفےت کے ساتھ مصروف رقص ہےں۔ جب کہ عےن اسی وقت کچھ دور شہر مےں ان کی 
قسمت کا فےصلہ 
ہورہا ہے۔ ےعنی چےری کا باغ نےلام ہورہا۔ ےعنی چےری کا باغ نےلام ہوراہ  ہے۔ ےہ اکےٹ 
بظاہر سب سے زےادہ مضحکہ خےز اور طربےہ
انداز کا ہے۔ لےکن ذہنی تناو اور جذباتی ہل چل کی زےرےں لہرنے، جس کا ڈرامائی مرکز 
رانوسکاےا کی 
شخصےت ہے ان کھےل تماشوں اور طرےبہ اےکشن کی لامعنوےت Absurdity کو اور نماےاں
کر دےا ہے۔ اس اےکٹ کا اختتام نےلام کے بعد لوپاخن اور گاوےو کی شہر سے واپسی پر وتا 
ہے۔ جس 
سے ےکا ےک فضا تبدےلی ہوجاتی ہے اور جس کی طرف پہلے اشارہ کےا گےا ہے۔</p>

<p>	اگلا اور آخری اےکٹ رانوسکاےا اور اس کے کاندان  کی اپنی دےرےنہ جائداد ارو چےری 
کے 
باغ سے رخصتی کا منظر پےش کرتا ہے۔ لےکن  اس مےں بھی المےہ عناصر کم و بےش 
مفقود ہےں۔ اس 
اےکٹ کا سب سے دل چسپ منظر لوپاخن کا آخری موقع فراہم کرنے کے باوجود بھی وارےا 
سے 
شادی کی درخواست نہ کرنا اور اس مختصر مدت کو ادھر ادھر کی باتوں مےں گنوادےانا 
ہے۔ ےہ منظر مضحکہ 
خےز ہونے کے ساتھ اداس بھی ہے۔ ےکوں کہ وارےا کی آخری اےمد بھی ےہاں دم 
توڑدےتی ہے۔ رانو سکاےا 
اور گاوےو کی اپنے گھر اور چےری کے باغ سے آنسو بھری رخصت بھی کافی اثر انگےز 
ہے۔ لےکن اس 
اےکٹ کا سب سے پر اثر ٹکڑا وہ آخری منظر ہے جب سب لوگ گھر کو بند کر کے رخصت  
ہوچکے 
ہےں اور چند لمحے خاموشی کے بعد بوڑھا اور بےمار ملازم فےرس کہےں سے لنگرا تا ہوا 
آتا ہے اور حےرت 
اسے ادھر ادھر دےکھ کر کہتا ہے کہ وہ سب اسے بالکل بھول گئے اور پھر صوفے پر لےٹ کر 
آہستہ آہستہ 
بدبداتا ہے اور ہم اس کے ےہ لافاظ سنتے ہےں مےری زندگی اس طرح گزر گئی گوےا 
مےں کبھی زندگہ ہی 
نہےں تھا۔ اور اسی وقت ہم چےری  کے باغ درختوں کے کٹ کر گرنے  اور بہت دور سے 
کوئی تار 
ٹوٹنے کی آواز سنتے ہےں جو دوسرے اےکٹ مےں بھی نسی گئی تھی..... فنی اختصار، 
اثر انگےزی اور 
معنی آفرےنی مےں ےہ منظر بھی کسی معجزے سے کم نہےں۔ </p>

<p>	چےری کا باغ اس ڈرامے کی ہشت پہلو مرکزی علامت ہے جس کے وسےلے سے  ہم نہ 
صرف
 
                                     (51) 14</p>

<p>مختلف کرداروں کی ذہنی کےفےات اور فلسفئہ حےات سے روشناس ہوتے ہےں بلکہ کئی 
گہری، سماجی اور 
آفاقی بصےرتوں کا عرفان بھی کرتے ہےں۔ رانوسکاےا کے لےے ےہ باغ بچپن ک حسےن ےادوں 
کا گہوراہ ہے 
اور گاوےو کے لےے خاندان کی روشن رواےات کی ےاد گار تروفی موف کے لےے ےہ سماجی 
نانصافی اور 
استحصال ک علامت ہے اور انےا کے لےے اےک اےسی محبوب شے جواب اپنی دل.کشی 
کھوچکی ہے۔
فےرس کے لےے ےہ اےک اےسے آئےڈےل نظام ارو طرز زندگی کی علامت ہے جسے اب کوئی 
سمجھ بھی نہےں 
سکتا۔ اور لوپاخن کے لےے ےہ اےک بہت پرانا باغ ہے جو اپنی موجود صورت مےں تو بالکل  
نفح بخش
 نہےں لےکن اس کٹواکر زمےن سے دولت کمائی جاسکتی ہے۔ مجموعی طور پر اسے 
جاگےرداری نظام کی علامت 
کہا جا سکتا ہے جواب اپنی توانائی اور جواز کھوچکا ہے اور جسے دےر ےا سوےر سرامہ 
داری ارو صنتعی نظام 
کے ہاتھوں پامال ہوتا ہے۔ لکےن بعض نقادوں نے اسے حسن کی علامت قرار دےا ہے جس 
کی بربادی
بہر طور اےک المناک حادثہ ہے۔</p>

<p>	انتون چےخوف کے اہم ترےن ڈراموں کے اس مختصر مطالعے مےں صرف چند اشاروں 
ہی پر اکتفا 
کےا گےا ہے جن کی روشنی مےں ان ڈراموں  کے گہرے معنوں تک پہنچئے اور ان کے 
فنی محاسن کی شناخت 
مےں مدد مل سکتی ہے اور اسٹےج کے فن کار بھی اس تنقےدی تجزےہ کا فائدہ اٹھا سکتے 
ہےں۔ اس مےں 
کوئی شک نہےں کہ چےخوف کے دراموں کی غےر معمولی، اثر انگےزی اور الما کا فن کا 
رانہ حسن ان کی اسٹےج  پےش کش 
ہی مےں بے.نقاب ہوتا ہے لےکن ےہ پےش کش ہداےت کار اور فن کاروں سے غےر معمولی 
مطالبات بھی 
کرتی ہے۔ بہر طور ےہ اپنی جگہ اےک بہت ہی  اہم اور پےچےدہ موضوع ہے جس کے لےے 
اےک طوےل مقالہ 
درد کا رہوگا، اس مقالے  کی حدود مےں رہ کر اس موضوع کا احاطہ کرنا ممکن نہےں۔ 
اس لےے اس پر آئندہ 
کبھی روشنی ڈالی جائے گی۔ چےخوف کی ڈراما نگاری جےسا کہ اوپر اشارہ کےا جا چکا 
ہے نہے صر فطرت 
نگاری، تاثراتی  طرز اظہار اور علامات نگاری کا سنگم اور شاعرانہ حقےقت نگاری کا 
نقطئہ عروج 
ہے بلکہ جدےد ڈرامے کے ارتقا مےں اےک سنگ مےل کی حےثےت بھی رکھتی ہے۔ اور جدےد 
تر ڈرامے پر 
اس کے اثرات گہرے اور دور رس  ہےں لےکن بھی اےک بہت وسےع اور غور طلب موضوع 
ہے اور 
اس کے لےے بھی کم سے کم اےک طوےل مقالہ درکار ہوگا اس لےے اس موضوع پر بھی پھر 
کسی موقعے پر 
اظہار خےال کےا جائے گا
 
                                   (52) 15</p>

<p>6کچھ ترجمے کے بارے مےں </p>

<p>	ےہ ترجمے بےش تر الےزاوےتافےن ( Elizaf Veta Fen) کے انگلش ترجمے کے مدد
سے کےے گئے ہےں جو پےنگونےن کلاسک مےں دستےاب ہےں۔ اس ترجمے کے علاوہ جہاں 
ضرورت محسوس ہوئی دوسرے ترجموں سے بھی مدد لی گئی ہے۔ ان ڈراموں کے 
متعداد اسٹےج پروڈکشن جو مےری نظر سے 
گزرے ان ڈاموں کو سمجھنے اور ان کا ترجمہ کرنے مےں معاون ثابت ہوئے۔ اور ان مےں 
بےش تر روسی 
پروڈکشن ہی تھے جو مےں نماسکو کے اسٹےج پر دےکھے۔ اس کے علاوہ مرےی بہت صابرہ  
زےدی (مرحومہ) نے 
جو روسی زبان بہت اچھی طرح جانتی تھےں اور بعض روسی دوستوں  نے ان تجرموں 
کے بعض حصوں کا 
روسی اورےجن دراموں سے مقابلہ کر کے مچھے ےقےن دلاےا کہ ان ڈراموں اور خاص کر 
تےن بہنےں اور چےری کا باغ کے مکالمے روسی اور ےجنل کے مطابق ہےں۔ حبےب 
مالوں کےوں کہ آزاد ترجمہ ہے اس لےے
اسے ہندوستانی ماحول مےں ڈھانے کے لےے کچھ ضروری تبدےلےاں کردی گئی ہےں اور سب 
سے زےادہ ہے کہ 
ان ترجموں  کی بنےاد مےرا چےخوف کا گہرا اور وسےع مطالعہ ہے جس مےں ان کی سب 
اہم تخلےقات اور 
ڈراموں کے علاوہ روسی اور مغربی سکالرز کے تنقےدی تجزےے، تحقےقی مقالے اور سوانخی 
مطالعے بھی 
شامل تھے۔ اور مےرے خےال کے مطابق ترجمے کے لےے صرف دوزبانوں سے کماحقہ واقفےت 
ہی ضروری 
نہں بلکہ موضوع  سے گہری واقفےت بھی ضروری ہے ارو ےہ بات تخلےقی فن پاروں کے 
سلسلے مےں اور 
بھی زےادہ اہم ہے جہاں ترجمے کا عمل خود اےک تخلےقی بعد رکھتا ہے۔</p>

<p>	جہاں تک خود مےرے تنقےدی نقطئہ نظر کی تسکلے کا سوال ہے اس پھر بھی 
مےرے وسےع مطالعے 
کا کچھ نہ کچھ اثر ضرور پڑا ہے۔ لےکن اس کے لےے مےں دوسرے نقادوں کی آرا سے 
کہےں زےادہ خود ان 
ترجموں اور چےخوف کے ڈراموں کی اےٹےج پےش کش کی مرہون منت ہوں جن کے دوران 
مجھے ان ڈراموں 
کو زےادہ قرےب سے دےھکنے اور ان پر غور و فرک کا موقعہ ملا۔ مےں چےخوف کے کئی 
ڈرامے اسٹےج پر پےش 
کرچکی  ہوں جن مےں مےرے ےہ دو ترجمے تےن بہنےں اور حبےب ماموں بھی 
شامل تھے۔ ارو اسٹےج 
پےش کش کی تےارےوں کے دوران چےخوف کے ڈڑاموں کے جوتہ درتہ معنی اور لطےف 
ترےن پہلو مجھ پر 
آشکار ہوئے وہ دوسرے نقادوں کی آرا سے کہےں زےادہ گہرے اور قابل عاتبار تھے۔ اور 
مےرا تنقےدی
 
                                        (53) 16</p>

<p>نقطئہ نظر بےش.تر انہےں بصےرتوں سے فےض ےاب ہوا ہے۔</p>

<p>	تےن بہنےں اور حبےب  ماموں جےسا کہ اوپر اشارہ کےا گےا ہے مےں خود 
علی.گڑھ کے اسٹےج پر 
پےش کر چکی ہوں۔ اور تےن بہنےں نےشنل اسکول آف ڈراما (دہلی) اور بھارت بھون 
(بھوپال) مےں 
بھی متعدد بار اسٹےچ پر پےش کےا جا چکا ہے۔ اور بھارت بھون نے اپنا پروڈکشن اور 
بھی کئی شہورں 
مےں دکھاےا تھا۔ حبےب ماموں کافی عرصے پہلے شمع زےدی نے مجھ سے پروڈکشن کے 
لےے طلب 
کےا تھا۔ا ور غالباََ وہ بھی اسے اسٹےج پر پےش کر کچی ہےں۔ چےری کا باغ مےری 
اطلاع کے مطابق
ابھی تک اسٹےج پر پےش نہےں کےا گے اہ۔ نےشنل اسکول آف ڈراما نے کئی سال پہلے 
چےری کا باغ
اپنے اسٹےج پر پےش کےا تھا، لےکن وہ مےرا ترجمہ نہےں تھا۔ امےد ہے کہ ان ڈراموں کی 
اشاعت نو کے 
بعد کچھ اور ڈراما گروب انھےں اسٹےج پر پےش کرنے پر مائل ہوں گے۔</p>

<p>	آخر مےں ےہ کہنا بھی ضروتی معلوم ہوتا ہے کہ انصاری (مرحوم) نے چےخوف کے 
ہجے بدل کر
اسے  چے.خف کر دےا تھا۔ لےن مےرے خےال مےں اسے لکھنے کا پرانا طرےقہ ہی ہر اعتبار 
سے زےادہ 
مناسب ہے۔ اس لےے مےں نے اس کے پرانے مروجہ ہجے ہی استعمال کےے ہےں ظ۔انصاری نے 
متعداد کہانےوں اور ڈراموں کے عنوانات کے تجرمے بھی غلط کےے ہےں مثلاََ  کاٹھ کا جن 
چاچا 
وانےا، اور بےری باغ مےں نے ان کی جگۂ جنگل کا جن، ماموں وانےا، اور چےری کا باغ 
استعمال کےا 
ہے جو زےادہ صحےح اور مناسب ہے۔ ظ۔انصاری کا ڈراموں اور کہانےوں کا تجزےہ بھی بہت 
ہی سر سری 
ناقص اور الجھا ہوا سا ہے۔ ہاں ان کی کتاب مے چےخوف کے حالات زندگی پر کافی مواد  
مل جاتا ہے۔ 
اس لےے مےں ناے اس مضمون مےں اس پہلو پر زےادہ روشنی نہےں ڈالی ہے، صرف چند 
اشاروں پر 
اکتفا کی ہے۔ اردو داں حضرات چےخوف کے سواجحی حالات حاننے کے لےے ان کی کتاب  
چے.خف
سے استفادہ کر سکتے ہےں۔</p>

<p>	آخر مےں صرف اےک بات کی طرف اشارہ کرنا چاہتی ہوں۔ وہ ےہ کہ چےخوف کے 
افسانوں 
اور طوےل کہانےوں کے ترجمے اردو مےں خاصی بڑی تعاداد مےں ہوچکے ہےں اور ان پر 
کچھ تنقےدی 
توجہ بھی دی گئی ہے۔ اور اردو کے افسانہ نگاروں کی بھی کئی نسےلں ان سے گہرے 
طور پر متاثر ہوئی 
ہےں اور حالےہ برسوں مے ٹی۔وی وغےرہ پر بھی ان کی پزےرائی ہوئی ہے۔ لےکن 
چےخوف کے لاجواب 
 
                                   (54) 17</p>

<p>ڈراموں سے اردوں اں طبقہ کم و بےش نا آشنا رہا ہے۔ اس لےے امےد ہے کہ ان تجموں  
کی 
اساغت نو اور اور اس تنقےدی مطالعے کی روشنی مےں اردو مےں دےنا مےں چےخوف کے 
ڈراموں مےں زےادہ 
فعال دل.چسپی اور مطالعے کا آغاذ ہوسکے گا۔
 </p>

<p> </p>

<p>               0 
</p></body></text></cesDoc>