<cesDoc id="urd-w-media-mm13.uol" lang="urd">
<cesHeader type="text">
<fileDesc>
<titleStmt>
<h.title>urd-w-media-mm13.uol.txt</h.title>
<respStmt>
<respType>Electronic file created by</respType>
<respName>Central Institute for Indian Languages, Mysore</respName>
<respType>transferred into Unicode and CES format by</respType>
<respName>"Unicodify" software by Andrew Hardie</respName>
</respStmt></titleStmt>
<publicationStmt>
<distributor>UCREL (on behalf of CIIL)</distributor>
<pubAddress>Department of Linguistics, Lancaster University, Lancaster, LA1 4YT, UK</pubAddress>
<availability region="WORLD"></availability>
<pubDate>03-07-02</pubDate>
</publicationStmt>
<sourceDesc>
<biblStruct>
<monogr>
<h.title>Ishtahariyat</h.title>
<h.author>Dilshad</h.author>
<imprint>
<pubPlace>India</pubPlace>
<publisher>Unknown - Book</publisher>
<pubDate>1991</pubDate>
</imprint>
<idno type="CIIL code">mm13.uol</idno>
</monogr></biblStruct></sourceDesc></fileDesc>
<encodingDesc>
<projectDesc>Text collected for the CIIL Corpus, subsequently integrated into the EMILLE/CIIL Monolingual Written Corpora.</projectDesc>
<samplingDesc>Simple written text only has been transcribed. Diagrams, pictures and tables have been omitted. Sampling begins at page 240/.</samplingDesc>
<editorialDecl><conformance level="1"></conformance></editorialDecl>
</encodingDesc>
<profileDesc>
<creation><date>03-07-02</date></creation>
<langUsage>Urdu</langUsage>
<wsdUsage>
<writingSystem id="ISO/IEC 10646">Universal Multiple-Octet Coded Character Set (UCS).</writingSystem>
</wsdUsage>
<textClass>
<channel mode="w">print</channel>
<constitution type="composite"></constitution>
<domain type="public"></domain>
<factuality type="fact"></factuality>
</textClass>
<translations></translations>
</profileDesc>
<revisionDesc></revisionDesc>
</cesHeader>

<text><body>

<p>								60(241) 1</p>

<p>0باب 21 </p>

<p>							60تشہےری ذرائع </p>

<p>
		 کسی بھی صنعت کے سلسلے مےں تشہےر کی مہم شروع کرتے 
وقت اشتہارات کے مناسب اور موئثر ذرائع کا انتخاب اےک اہم مرحلہ 
ہوتا ہے۔ ابلاغ عامہ کے مناسب اور موزوں ذرائع کا انتخاب مہم کی 
کامےابی کا ضامن ہے۔ قومی اخبارات اشتہارات کے ذرےعہ مصنوعات کے 
فروغ مےں بے پناہ مدد دےتے ہےں۔ قومی اخبارات سے مراد وہ اخبارات ہےں 
جو ملک بھر مےں ےا ملک کے اکثر حصہ مےں پڑھے جاتے ہےں اور کسی
مےں کم لےکن ان کا حلقہ اثر اتنا ہی وسےع ہوتا ہے، جتنا کہ وطن 
عزےز کا رقبہ ہے۔ اخبارات کے علاوہ رسائل و جرائد کا حلقہ اثر بھی 
اےسی تشہےری مہم پر اثر انداز ہوتی ہے۔</p>

<p>		 اخبارات و رسائی کے علاوہ اشتہارات کے لےے مندرجہ ذےل 
ذرائع ہےں :</p>

<p>1۔ ٹےلی وژن 
2۔ رےڈےو
3۔ سےنما 
4۔ ٹرانسپورٹ کے ذرائع 
5۔ ڈاک
6۔ نمائش اور مےلے
7۔ دےواری اشتہارات وغےرہ</p>

<p>		 اشتہارات کے ان ذرائع مےں چند اےک اہم ذرائع کی خوبےوں کا ذرا 
تفصےل سے ذکر کےا جاتا ہے۔ اگلے باب مےں رےڈےائی اور ٹےلی وژن کی 
تشہےری کارکردگی کا جائزہ پےش کےا گےا ہے۔ اشتہارات کے مقاصد
کے لےے پرےس سے مراد وہ اخبارات نہےں بلکہ ہر قسم کے جرائد و رسائل 
 
								60(242) 2</p>

<p>		محکمہ منسٹری اےکسائز کی جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 
ملک بھر مےں تقرےباََ اےک کروڑ رےڈےو، 14 لاکھ ٹےلی وژن اور دور 
لاکھ وی۔سی آر ہےں لےکن سرکاری اعداد و شمار کے برعکس دوسرے 
ذرائع کے مطابق ملک بھر مےں ڈےڑھ کروڑ رےڈےو، 30 لاکھ ٹےلی وژن 
اور 6 لاکھ وی۔سی آر موجود ہےں اور جامعہ پنجاب کے تحقےقی جائزہ 
کے مطابق پاکستان مےں آبادی کے لحاظ سے ٹےلی وژن کا تناسب ےونےسکو 
کے مقرر کردہ عالمی معےار سے بھی زےادہ ہے۔</p>

<p>		 عام طور پر ےہ تاثر پاےا جاتا ہے کہ جدےد دور زندگی کے اےک پہلو 
کی حےثےت سے باقی ترقی پزےر دنےا کی طرح پاکستان مےں بھی ذرائع ابلاغ 
ےعنی اخبارات، رےڈےو، ٹی، وی اور سےنما، وغےرہ عوام کی وسےع اکثرےت تک 
پہنچتے ہےں اور رابطے کا ذرےعہ بنتے ہےں لےکن جب ہم ابلاغ عامہ کے 
 
								60(243) 3</p>

<p>حقےقی اعداد و سمار کا جائزہ لےتے ہےں تو ےہ بات سامنے آتی ہے کہ 
ابلاغ عامہ کی کسوٹی پر پاکستانی ذرائع ابلاغ کا بہت ہی محدود حصہ 
عوام تک پہنچتا ہے۔ چنانچہ اس وقت ہمارے ملک مےں شاےد ہی کوئی 
اےسا مےڈےم ےا ذرےعہ ابلاغ ہو جو پاکستانی عوام تک مکمل رسائی ےا 
رابطے کا دعوی کرسکے۔ اس ضمن مےں اعداد و شمار کا حولہ دنے سے
پہلے وضاحت ضروری ہے کہ کسی معاشرے مےں ذرائع ابلاغ عامہ کی طرف 
سے عوام تک مکمل ابلاغ کو اےک اصول ےا معےار کی حےثےت نہےں دی 
جاسکتی۔ ضروری نہےں کہ ملک کے ہر فرد کو ذرائع ابلاغ کی مدد سے 
کسی اےک چےز کے بارے مےں ےکساں معلومات ہوں بلکہ اس کے برعکس 
اکثر ہوتا ےوں ہے کہ زبانی بےان کی جانے والی چےز خاص نفسےاتی وجود 
سے جدےد ذرائع ابلاغ کے مقابلے مےں زےادہ تےز رفتار اور موئثر ثابت ہوتی 
ہے مثلاََ نفسےاتی نقطہ نظر سے افواہ کے بارے مےں کہا جاسکتا ہے کہ 
بے شک اس طرح کی اطلاع بے بنےاد ہوتی ہے۔(لےکن بے بنےاد ہی سہی)
ےہ اطلاع اےک زبان سے دوسری زبان اور پھر سےنکڑوں کانوں تک صرف
اپنی طاقت کے سہارے ابلاغ کرتی ہے۔ اندازہ ہے کہ پاکستان کی تقرےباََ 
دس کروڑ آبادی مےں اےک کروڑ بارہ لاکھ سے اےک کروڑ پندرہ لاکھ 
تک کی تعداد مےں گھرانے ہےں اور اس آبادی مےں خواندگی کی شرح ےس 
فےصد ہے ےعنی دو کروڑ چالےس لاکھ افراد کی خاندانی تقسےم کی جائے تو 
تقرےباََ تےس لاکھ گھرانے  خواندہ ہےں(ےعنی مجموعی طور پر دو کروڈ 
چالےس لاکھ خواندہ افراد) لےکن جب ہم اپنے ملک مےں پرنٹ مےڈےا 
ےعنی طباعتی ذرےعہ ابلاغ کی کارکردگی اور اس کے اثرات کے جائزہ لےتے ہےں 
تو معلوم ہوتا ہے کہ اخبارات اور جرائد کی نمائدہ ادارہ آل پاکستان 
نےوز پےپرز سوسائٹی کے سو سے زےادہ ارکان ہونے کے باوجود پاکستان مےں 
تما روز ناموں کی کل تعداد ہر روز دس لاکھ سے زےادہ نہےں شائع ہوتی 
بہرحال پاکستان مےں اخبارات کی دس لاکھ سے کم روزانہ اشاعت پہ
بات ظاہر کرتی ہے کہ گھرانوں کے اعتبار سے کل تےس لاکھ پاکستانی 
گھرانوں کے لےے بھی وثوق سے نہےں کہا جاسکتا کہ ےہ تمام گھرانے 
ہر روز اخبارا خرےد کر پڑھتے ہےں۔ ےہاں ےہ بھی ےاد رہے کہ جتنی سمت 
 
								60(245) 4</p>

<p>رفتاری سے ہماری بنےادی خواندگی اور بالغوں کی خواندگی مےں اضافہ ہورہا 
ہے، اس سے کہےں زےادہ تےزی سے اضافہ ہماری آبادی مےں ہورہا ہے جس 
کی شرح دنےا کے پسماندہ ممالک سے بھی زےادہ ہے (جب کہ بنگلہ دےش اور 
ہندوستان کی ابادی مےں اضافہ کی شرح ہمارے اخبارا ت کے 
قارئےن کی تعداد مےں اضافے کی شرح سے زےادہ بلند ہے۔ قطع نظر اس کے 
کہ نظری اور عملی طور پر ہمارے روزنامہ اخبارات کتنے لاکھ گھرانوں 
مےں پڑھے جاتے ہےں، اےک حقےقٹ ےہ ملحوظ رہے کہ اخبارات پڑھنر والے 
ان پاکستانی گھرانوں مےں قآرئےن کی اکثرےت اخبار مےں خبروں کے اس
حصے تک محدود رہتی ہے جو صفحہ اول کے صفحہ آخر کا ہوتا ہے
جب کے کچھ قارئےن تو صرف شد سرخےوں اور عنوانات پر نظر ڈالنا ہی 
کافی سمجھتے ہےں۔ البتہ قارئےن کی مجموعی اکثرےت کی مرکزی دلچسپی 
رنگےن تصاوےر اور چٹ پٹے موضوعات مےں برقرار رہی ہے پرنٹ مےڈےا 
کے بعد اب ابلاغ عامہ کے اےک اور شعبے کا ذکر کرتے ہےں ےعنی سےنما :
اس وقت پاکستان مےں تقرےباََ پانچ سو سنےما گھر مےں جن مےں سے تےن سو 
سے زائد سےنما گھر اےسے آٹھ بڑے شہروں مےں قائم ہےں جہاں ہمارے ملک 
کی صرف بےس فی صد آبادی رہتی ہے۔ گوےا ملک کی باقی اسی فی صد 
آبادی کے لےے موجودہ سنےما گھروں کی تعداد صرف دو سو ہے جب کہ 
اسی فی صد کی آبادی مےں بھی چھوٹے شہروں اور دےہاتوں کی خواتےن 
سےنما گھروں کا رخ کرتےں۔</p>

<p>		 گذشتہ اےک دہائی مےں خصوصاََ وےڈےو کی امد کے بعد سنےما جانے 
والے طبقے مےں کچھ تبدےلی رونما ہوئی ہے چنانچہ آج پاکستانی معاشرے 
کا بالائی طبقہ اور بالائی متوسط طبقہ سےنما گھرنہےں جاتا لہذا کم از کم 
ان طبقوں کو سےنما کے سماجی پہلو سے محروم سمجھا جاتا ہے دوسری 
طرف پاکستانی فلموں کے موضوعات اور مواد مےں کوئی بنےادی تبدےلی
نہےں آئی اور آج بھی ہماری فلمےں فارمولا قسم کی ہےں۔ حالانکہ اب پہلے 
زمانے کے برعکس اردو کے بجائے زےادہ تر فلمےں پنجابی اور پشتو مےں 
بن رہی ہےں۔
 
								60(247) 5</p>

<p>		سےنما کے بعد رےڈےو.... اندازہ لگاےا گےا ہے کہ پاکستان مےں اس
وقت تقرےباََ دس لاکھ مختلف قسم کے رےڈےو سےٹ ہےں۔ اس تعداد مےں 
زےادہ تر رےڈےو سےٹ ٹرانسٹر ہےں۔ اےل زمانہ تھا کہ بجلی سے چلنے 
والے اےک بڑے رےڈےو سےٹ کو بےک وقت کئی افراد سنا کرتے تھے 
ےلکن ٹرانسٹر کی امد کے بعد سامعےن کی اوسط تعداد فی رےڈےو سےٹ
کم ہوگئی ہے ےعنی زےادہ سے زےادہ تےن سے چار سا معےن اوسطاََ فی سےٹ 
باوجود اس کے کہ رےڈےو کے سنگل کی ملک کے ہر گوشے تک رسائی ہے
لےکن ملکی آبادی کا محض نصف حصہ ےعنی پانچ کروڑ افراد ہی رےڈےو 
سنتے ہےں۔</p>

<p>		 رےڈَےو کے ضمن مےں ےہ خےال رہے کہ ےہ واحد ذرےعہ ابلاغ ہے 
جس مےں رےڈےو سےٹ کے مالک کو مکمل انتخاب کی آزادی حاصل ہوتی 
ہے اور وہ کسی سنسر شپ ےا کسی سے اجازت لےے بغَےر اپنی پسند کا 
پروگرام سن سکتا ہے۔ جب کہ دےگر ذرائع ہائے ابلاغ مےں حکومت ےا
کوئی اور باضابطہ ادارہ، ابلاغ کے مواد اور متعلقہ ذرےعہ ابلاغ کے 
استعمال کرنے والوں کے درمےان دخل انداز ہوتا ہے۔ ےہاں ےہ بات بھی 
ےاد رہے کہ اےک بڑی تعداد مےں ٹرانزسٹر کےسٹ ٹےپ کے ساتھ درآمد 
ہوتے ہےں جےسے بھاری اکثرےت رےڈےو کے بجائے ٹےپ کے طور پر استعمال 
کرتی ہے۔ نےز مشرق وسطی سے انے والے زر مبادلہ کے ساتھ ساتھ 
دوسری اشےا کے علاوہ کےسٹ ٹےپ بھی بڑی تعداد مےں ملک کے اندر 
پہنچے۔ چنانچہ آج بمشکل ملک کا کوئی گاوں اےسا ہوگا جہاں ابھی تک 
کےسٹ ٹےپ نہ پہنچا ہو۔ چنانچہ کےسٹوں کے اس انقلاب نے بھی 
رےڈےو کی حےثےت کو مجروح کےا بالکل اسی طرح جےسے وےڈےو نے سےنما کی 
اہمےت کو دھکچہ پہنچاےا۔ </p>

<p>		 ٹےلی وژن. . . . جو گذشتہ پندرہ سالوں مےں سب سے زےادہ زےر بحث 
آنے والے ذرےع ابلاغ ہے۔ بےس سال کے عرصے کے بعد ہمارے بارہ لاکھ 
گھرانوں مےں سرکاری طور پر لائسنس ےافتہ ٹی وی سےٹ تقرےباََ صرف
پندرہ لاکھ ہےں۔ اگر ہم اپنے طور پر اندازہ لگائےں کہ ملک مےں دس
لاکھ ٹی وی سےٹ غےر لائسنس کے بھی ہوں گے تب بھی کل ٹی وی 
سےٹوں کی تعداد پچےس لاکھ بنے گی۔ جب کہ ملک مےں کل گھرانوں کی 
 
									60(248) 6</p>

<p>تعداد اےک کروڑ پندرہ لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ گوےا صرف 205 ملےن 
پاکستانی گھرانوں کے پاس اےک ٹی وی سےٹ ہے اور ہر سےٹ کو 
چھ افراد دےکھ رہے ہےں تو دس کروڑ مےں سے دو کروڑ افراد کسی بھی 
وقت ٹی وی دےکھ سکتے ہےں۔ ےہاں ےہ ےاد رہے کہ صوبہ پنجاب کے عوام 
کی اےک خاص شرح مخصوص اوقات مےں پاکستانی ٹےلی وژن کے بجائے 
ہندوستان سے دور درشن امرتسر ٹی نشرےات دےکھنے کو ترجےح 
دےتی ہے۔ </p>

<p>		 پبلسٹی کے ضمن مےں اےک عنصر وےڈےو کا ہے۔ اعداد و شمار کے 
مطابق اس وقت ملک مےں وےڈےو کےسٹ رےکارڈ کی تعداد پانچ لاکھ ہے 
اور ناظرےن کی اےک خاص اکثرےت ٹی وی سےٹ کو وےڈےو ٹےپ دےکھنے 
کے لےے استعمال کرتی ہے جو کہ ظاہر ہے۔ ٹی وی سےٹ کا اصل استعمال 
نہےں ہے۔ علاوہ ازےں ےہ بھی اےک حقےقت ہے کہ پانچ گھنٹے کی محدود نشرےات 
کے دوران تمام لوگ تمام وقت ٹی وی سےٹ کے سامنے نہےں بےٹھتے رہتے۔
ےہ امر خصوصاََ قابل توجہ ہے کہ دس کروڑ کی آبادی مےں صرف دو کروڑ 
افراد ٹی وی دےکھتے ہےں۔ اس لحاظ سے پاکستانی ٹےلی وژن کا ےہ دعوی 
کہ ٹی وی سگنل ملکی علاقے کے پچھتر فی صد حصے پر انداز ہوتا ہے، 
اےک گمراہ کن بےان ہے کےونکہ بات صرف علاقے کی نہےں بلکہ اصل بات
ےہ ہے کہ کتنے لوگ اس سے فےض ےاب ہورہے ہےں۔ ٹی وی کے سلسلے 
مےں ےہ بات بھی قائل ذکر ہے کہ ٹی وی دےگر ذرائع ابلاغ مثلاََ اخبار
رےڈےو اور سنےما وغےرہ کے مقابلے مےں سب سے زےادہ مہنگا ذرےعہ ابلاغ 
ہے۔ اس بات کا ذکر خصوصاََ اےسے ملک مےں ضروری ہے جہاں سستا 
ترےن ٹی وی سےٹ دو ہزار روپے مےں ملتا ہو اور فی کس شرح آمدنی 
صرف 390 ڈالر ہوط ان اعداد و شمار کی روشنی مےں مندرجہ ذےل حقائق 
ہمارے سامنے آتے ہےں :</p>

<p>	1۔ کس طرح پاکستان مےں اور تےسری دنےا کے غےر ترقی ےافتہ اور 
پسماندہ ممالک مےں انسانی جسم مےں غزا کی کمی کے لےے
اصطلاح ناقص تعزےہ کے الفاظ استعمال ہوتے ہےں، اسی طرح ابلاغ 
اور آبادی کے باہمی تعلق کو مد نظر رکھتے ہوئے اطلاعات 
کی سطح پر پاکستان کو ناقص ےا خبری کاشکار کہا جاسکتا ہے۔
 
								60(249) 7</p>

<p>2۔ اےک تضاد ےہ ہے کہ اوپر بےان کردہ چار ذرائع ابلاغ مےں سے
تےن ذرائع ابلاغ رےڈےو، ٹی وی اور اخبارات و جرائد کا کنٹرول 
ےا ان کی پالےسی سازی کے امور وزارت اطلاعات کی نگرانی مےں 
طے پاتے ہےں جب کہ اےک ذرےعہ ابلاغ ےعنی سےنما کی نگرانی 
وزارت ثقافت کے اختےار مےں ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 
پاکستان مےں شعبہ ابلاغ کے لےے کوئی اےک ےکساں ڈھانچہ نہےں 
ہے جو کہ ہونا چاہےے۔</p>

<p>3۔ پاکستان مےں مملکت اور حکومت کو ابلاغ کے معاملے مےں اےک 
اہم، وسےع اور بھاری کردار حاصل ہے۔ ےہاں تک کہ بنےادی 
حقوق کی بحالی کے بعد بھی مملکت اور حکومت اس مخصوص 
کردار کے تحت اپنے اختےارات کو استعمال کرنے کے اہل اور
مجاز ہےں اور اس وقت بھی انھےں اس شعبے مےں وسےع مداخلت 
کے مواقع حاصل ہےں۔ حالانکہ بنےادی حقوق کی بحالی آزادی 
اظہار سے براہ راست تعلق رکھتی ہے۔</p>

<p>		 ذرائع ابلاغ پر کنٹرول کے ضمن مےں مملکت اور حکومت کا کردار، 
رےس اےنڈ پبلی کےشنز آرڈی نےنس کے مکمل نفاد سے شروع ہوتا ہے 
جس کے تحت اےک ڈسٹرکٹ مجسٹرےٹ کو ےہ اختےار حاصل ہوتا ہے کہ 
وہ کسی اخبارا ےا جرےدے کے حوالے کے لےے ڈےکارےشن کی درخواست کو 
طوےل عرصے ےا غےر معےنہ مدت تک التوا مےں ڈالے رکھے۔ چنانچہ اس 
آرڈی نےنس کی رو سے کسی اخبار ےا جرےدے کو شائع کرنے کے لےے 
اجازت کا قطعی حق حکومت پر ہے اور ےہ اجازت عموماََ سےاسی 
کے تحت مختلف اور پےچےدہ پہلو اےسے ہےں جو ابلاغ پر مملکت اور حکومت 
کے مکمل کنٹرول کو ظاہر کرتے ہےں۔ باوجود اس کے کہ موجودہ 
شعبے مےں اس منفی اور ناجائز قانون کی موجودگی حکومت کا اےسا عمل
ہے جو اظہار رائے کی آزادی کے دعووں پر پانی پھےر دےتا ہے۔ اس کے 
ساتھ حکومت کو نےوز پرنٹ کی درآمد پر کنٹرول کا حق بھی حاصل ہے۔
نےز سرکاری و نےم سرکاری اداروں کے اشتہارات بھی حکومت کے دائرہ 
 
								60(250) 8</p>

<p> 
اختےار مےں ہےں، اےک اشتہار خواہ وہ اسٹےٹ سےنٹ کا ہو ےا حکومت 
بلوچستان کے کسی محکمہ کا، حکومت کے پرےس انفارمےشن ڈےپارٹمنٹ کو
ےہ اختےار حاصل ہے کہ وہ کسی وجہ سے ےا وجہ کو بےان کےے بغےر کسی 
اخبار کو اشتہار کی منظوری دےنے سے انکار کردے۔ ےہ بھی پرےس پر 
حکومتی کنٹرول کا اےک طرےقہ ہے اور انداز ہے۔</p>

<p>		 اس کے علاوہ مملکت پاکستان بذات خود شعبہ ابلاغ مےں مالکانہ 
حےثےت رکھتی ہے اور اےن پی ٹی ےعنی نےشنل پرےس ٹرسٹ کے کئی 
اخبارات اس کی ملکےت ہےں جب کہ رےڈےو اور ٹےلی وےژن تو ہےں ہی 
مملکت اور حکومت کے ادارے۔ اس کے ساتھ سےنما کے شعبے مےں بھی 
فلم کے خام مال کی خرےد و فروخت کے لےے نےف ڈےک کا ادارہ نےشنل 
فلم ڈوےلپمنٹ کارپورےشن کے ذرےعے پرمٹ جاری کرتا ہے اور حکومت 
ہی رجسٹرےشن کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ڈےوٹی کی مدد سے اور حتمی طور
پر سنسر بورڈ کے اختےارات کے ذرےعے سےنما کے معاملے مےں حکومت کا 
کنٹرول واضح نظر آتا ہے۔</p>

<p>		 سرکاری اشتہارات کے بارے مےں پالےسی پر ہر دور مےں ابتلا، 
آزمائش اور عدم استحکام کا شکار رہی ہے۔ باقسمتی سے سرکاری اشتہارات 
پر پابندےوں کا عرصہ ہماری ربع صدی سے زائد عرصہ پر محےط سرکاری 
اشتہارات کی تارےخ کا اےک سےاہ باب بن چکا ہے۔ اخبار کی بندش، 
اشتہارات کی تقسےم اور کاغزی کوٹہ کی فراہمی مےں نانصافےاں، اشتہارات 
کے نرخوں مےں مبےنہ تغاپت کے نتےجہ مےں اخبارات و جرائد مختلف النوع 
مسائل و مشکلات اور معاشی پرےشانےوں سے نبرد آزما رہے ہےں اور 
حکومت پر ہمےشہ تنقےد کرنے والوں کو سرکاری اشتہارات دےنا قدرے 
ناممکن رہا ہے۔</p>

<p>		 امےد کی جاسکتی ہے کہ موجودہ جمہوری حکومت سرکاری 
اشتہارات کے بارے مےں پےش رو حکمرانوں کی پالےسےوں کا اعادہ ےعنی 
اےکشن ری پلے نہےں ہونے دے گی۔ </p>

<p>						2              2</p>

<p> 
								60(251) 9</p>

<p>0باب 22</p>

<p>			60رےڈےو اور ٹےلی وژن کی تشہےری کارکردگی </p>

<p>0نشرےاتی0(رےڈےو اور ٹےلی وژن ) :</p>

<p>		 رےڈےو اور ٹےلی وژن جدےد دور کی پےداوار ہےں اور ہمارے ہاں تو ان 
کو تجارتی تشہےر کا ذرےعہ حال ہی مےں بناےا گےا ہے۔ چند سال قبل ہمارے
سامعےن رےڈےو سےلون کے تجارتی پروگرام سے بخوبی واقف تھے جو دےکھتے
دےکھتے ہی پاکستان اور بھارت مےں از حد مقبول ہوگےا۔ اس تجربے کی 
کامےابی پر رےڈےو پاکستان نے بھی اپنی کمرشل سروس شروع کی جو
نہ صرف رےڈےو کو مقبول بنانے کا باعث بنی بلکہ معقول آمدنی کا اےک 
اہم ذرےعہ بن کر رہ گئی۔ در حقےقت رےڈےو کا کمرشل پروگرام شروع 
کرنے کی اےک وجہ ےہ بھی تھی کہ گذشتہ عشرے کے دوران ملکی 
معےشت کو سرکاری کنٹرول سے آزاد کرکے تجارتی بنےادوں پر استوار 
کرنے کا نظرےہ اپناےا گےا۔ ےہی وجہ تھی کہ گزشتہ عشرے کے دوران ملکی
معےشت کو سرکاری کنٹرول سے آزاد کرکے تجارتی بنےادوں پر استوار 
کرنے کا نظرےہ اپناےا گےا۔ ےہی وجہ تھی کہ محکمہ آب پاشی۔ بجلی، صنعت 
رےلوے حتی کہ شعبہ صنعتی ترقی کو قومی تحوےل مےں رکھنے کی بجائے 
اےسے خود مختار اداروں کے سپر کےا گےا جو ان کو صرف عوامی بہبود کی 
سروس بنانے کے ساتھ ساتھ تجارتی بنےادوں پر چلائےں۔ کےونکہ گزشتہ 
عشرے کے دوران ملکی معےشت مےں جس سرعت کے ساتھ توسےع ہوئی 
اور صنعتی ترقی کے مےدان مےں ہم آگے بڑھے اس کا تقاضا ےہی تھا کہ 
ملک مےں ملی جلی معےشٹ کو فروغ دےا جائے۔ چنانچہ اس نظرےہ کے
پاکستانی کی کمرشل سروس کا اجرائ اور ٹےلی وژن کارپورےشن کا تجارتی 
بنےادوں پر اجرا اسی سلسلہ کی کڑی ہےں، اس اقدام کا اےک مقصد ملک کے 
نشرےاتی ذرائع کو مالی لحاظ سے خود کفےل بنانا بھی ہے تاکہ ےہ ذرائع 
حد کی وسائل پر بار بننے کے بجائے معےشت کے لےے مفےد ثابت ہوں۔
 
								60(253) 10</p>

<p>		 نشرےاتی ذرائع تشہےر مےں رےڈےو نسبتاََ پرانا ہے لہذا ہم پہلے رےڈےو 
کی اہمےت پر روشنی ڈالےں گے۔ بطور اےک ذرےعہ تشہےر کے رےڈےو کی 
اہمےت سب پر واضح ہے اور اس لحاظ سے ےہ تمام دوسرے ذرائع 
تشہےر سے برتری رکھتا ہے۔ کےونکہ اخبار۔ اشتہارات وغےرہ صرف 
خواندہ لوگوں کو متوجہ کرسکتے ہےں جب کہ رےڈےو کے لےے خواندگی 
کی کوئی قےد نہےں۔ گذشتہ پانچ سال کے دوران ہمارے ملک مےں رےڈےو 
سےٹوں کی تعداد جس تےزی کے ساتھ بڑھی ہے اس سے اندازہ لگاےا جاسکتا 
ہے کہ رےڈےو تشہےر کا کتنا موئثر ذرےعہ بن چکا ہے۔ اس وقت صورت 
حال ےہ ہے کہ دور دراز دےہات تو اےک طرف، کھےتوں مےں کام کرنے 
والے کاشت کار بھی ٹرانسٹر رےڈےو کے مالک ہےں۔ اس کے علاوہ ہمارے
رےڈےو سٹےشنوں کی تعداد مےں بھی نماےاں اضافہ ہوچکا ہے جہاں سے اردو 
کے علاوہ علاقائی زبانوں مےں بھی پروگرام نشر ہوتے ہےں۔ تاہم اشتہاری 
مقاصد کے لےے صرف اردو اور انگرےزی زبان استعمال کی جاتی ہے جب کہ 
لاہور سے کچھ اشتہاروں کے لےے پنجابی زبان سے بھی کام لےا جاتا ہے۔</p>

<p>		 مغربی ملکوں . . . . خصوصاََ امرےکہ مےں رےڈےو کے ذرےعے نشر ہونے 
والے اشتہارات کو مندرجہ ذےل اقسام مےں تقسےم کےا گےا :</p>

<p>			براہ راست۔ ٹےپ شدہ </p>

<p>		 براہ راست پروگرام تمام رےڈےو سٹےشنوں سے بےک وقت نشر ہوتا 
ہے۔ جب کہ آخر الذکر ٹےپ پر محفوظ کرکے متعلقہ رےڈےو سٹےشن کو 
روانہ کردےا جاتا ہے جو اسے مستہرےن کی خواہش کے مطابق نشر کرتا
ہے لےکن ہمارے ہاں رےڈےو کے ذرےعہ تشہےر کا رواج زےادہ ترقی نہےں 
کرسکا اس لےے مشتہرےن براہ راست اپنے نزدےکی رےڈےو اسٹےشن سے ہی 
رجوع کرتے ہےں۔</p>

<p>		 امرےکہ وغےرہ مےں رےڈےو سٹےشن مقامی علاقائی اور قومی بنےادوں 
پر بھی کام کرتے ہےں اور اس لحاظ سے ےہ رےڈےو سٹےشن اپنے ٹرانسٹر
نصب کرتے ہےں۔ علاقائی رےڈےو سٹےشن کم طاقت کے رےڈےو سٹےشن سے
 
								60(254) 11</p>

<p>چلا لےتے ہےں جب کہ قومی بنےادوں پر کام کرنے والے رےڈےو سٹےشن 
طاقتور ٹرانسمےٹر نصب کرتے ہےں جن کی اواز تمام ملک مےں سنی جاسکے۔
مختلف قسم کے رےڈےو سٹےشنوں سے نشر ہونے والے اشتہارات کے فرخ 
بھی مختلف ہوتے ہےں اور اسی بنےاد پر اشتہارات کی نوعےت کا تعےن کےا 
جاتا ہے۔ مثلاََ اےک مقامی رےڈےو سٹےشن سے اےسے کاروباری ادارے اپنے 
اشتہارات نشر کراتے ہےں جن کا کاروبار محدود قسم کا ہے اور جو اےک 
مخصوص علاقے کے صارفوں کی ضرورےات پوری کرتے ہےں جب کہ ملک گےر 
بنےادوں پر کاروبار کرنے والے ادارے اور بڑے بڑے کارخانے ہمےشہ 
ےہ کوشش کرتے ہےں کہ ان کا نام عوام مےں سنا جائے چنانچہ وہ قومی
بنےاد پر کام کرنے والے رےڈےو سٹےشنوں سے رجوع کرتے ہےں۔</p>

<p>0تشہےر کے لےے رےڈےو کا سہارا کےوں لےا جاتا ہے ؟</p>

<p>		 ےہ سوال اپنی جگہ از حد اہم ہے کہ مشتہر حضرات کو رےڈےو کو 
اخبارات پر ترجےح کےوں دےتے ہےں؟ اس کی اےک وجہ تو ےہ بےان کی 
گئی ہے کہ رےڈےو کے ذرےعہ اطلاع نسبتاََ تےزی کے ساتھ عوام تک پہنچتی 
ہے۔ لوگ اہم خبر کی تصدےق کے لےے فوراََ رےڈےو کی طرف رجوع 
کرتے ہےں، جس سے ظاہر ہے کہ اب عوام رےڈےو پر اندھا دھند اعتماد
کرنے لگے ہےں۔ےہی وجہ ہے کہ رےڈےو سے نشر ہونے والے اشتہارات 
کو بھی خصوصی اہمےت دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ آج کل رےڈےو کے 
ذرےعے کوئی پےغام کم سے کم لاگت مےں زےادہ اخراجات ادا کرکے بار بار
دہراےا جاسکتا ہے جب کہ اخبارات مےں اےک اشتہار دوبارہ چھاپنے کے 
لےے نسبتاََ زائد اخراجات کا متحمل ہونا پڑتا ہے۔ رےڈےائی پےغام مےں 
ضرورےات کے مطابق رد و بدل بھی آسانی کے ساتھ ممکن ہے مگر اخبار 
اشتہار مےں اےسا نہےں ہوسکتا۔ رےڈےو سےٹ کو اےک جگہ سے دوسری 
جگہ منتقل کرنا بھی آسان ہوتا ہے اور آج کل تو جےسی رےڈےو سےٹ بھی از
حد مقبول ہورہے ہےں جن کو منتقل کرنے مےں دقت پےش نہےں آتی۔</p>

<p>		 اس کے برعکس رےڈےو کے استعمال مےں کچھ مشکلات بھی پےش آتی 
ہےں۔ مثلاََ اس سے استفادہ وہی لوگ کرسکتے ہےں جو رےڈےو سےٹ کے 
 
								60(257) 12</p>

<p>مالک ہوں اور پھر ےہ بھی ضروری نہےں ہے کہ رےڈےو کے مالک متوقع 
خرےدار بھی ہوں۔ ہمارے ہاں رےڈےو کے مالکوں کی دو اقسام ہےں اول 
تو آن پڑھ دےہاتی جن کی قوت خرےد از حد کمزور ہوتی ہے اور وہ 
قدرے قناعت پسند ہوتے ہےں اس لےے ان سے ےہ توقع رکھتا عبث ہے کہ 
وہ مشتہر کےے جانے والے مال کے خڑےدار ثابت ہوسکتے ہےں۔ دوسری 
قسم کے شہروں مےں رہنے والے تعلےم ےافتہ طبقہ کی ہے اور جدےد دور 
مےں اس طبقہ کی قوت خرےد بھی محدود ہوکر رہ گئی ہے اور زندگی کی 
تےز رفتاری ان کو محدود گردش روزگار سے باہر نکلنے کی اجازت ہی نہےں 
دےتی اس لےے ان کو بھی متوقع خرےدار قرار نہےں دےا جاسکتا۔ اس کے 
علاوہ جدےد دور کی مصروفےات زندگی نے لوگوں کے پاس اتنا وقت ہی 
نہےں رہنے دےا کہ وہ اطمےنان کے ساتھ رےڈےو سن سکےں چہ جائےکہ وہ 
اس کے ذرےعہ نشر ہونے والے اشتہارات کی طرف توجہ دےں اور پھر
نشرےات نے ٹےلی وژن کا مقابلہ کرنے کے لےے رےڈےو کے پروگراموں کو 
کافی حد بہتر بنالےا ہے مگر تاحال رےڈےو موئثر طور پر ٹےلی وژن کا مقابلہ 
کرنے کے قابل نہےں ہوسکا۔</p>

<p>0رےڈےو سپاٹ :</p>

<p>		 رےڈےو چونکہ سمعی ذرےعہ ابلاغ ہے اس لےے اشتہار صرف آواز پر 
مبنی ہوتا ہے۔ مطبوعاتی اشتہار کے برعکس سمعی ذرےعہ ابلاغ موئثر 
ابلاغ کے لےے آوازوں کے چناو اور آوازوں زےر وزےر پر زےادہ زور دےا 
جاتا ہے، اےک اچھی سمعی اشتہار وہ ہوتا ہے جسے پےش کرنے والے 
کی اواز مےں موسےقےت ہو، اس کی آواز کانوں کو بھلی لگے اوررےڈےو کے 
دےگر دلچسپ پروگراموں کی طرح اس اشتہارات ملنے کا انتظار رہے۔
ماہرےن نفسےا کا کہنا ہے کہ اےک اچھی اور موسےقےت سے بھر پور آواز 
خود فراموشی کی کےفےت طاری کردےتی ہے اور اسی خود فراموشی کی 
کےفےت مےں انسان جو کچھ سنتا ہے اس سے متاثر ہوتا ہے جس ۔رح 
مطبوعاتی اشتہارات مےں لے آوٹ اہم کردار ادا کرتا ہے اسی طرح سمعی 
ذرےعہ ابلاغ کے لےے تےار کےے جانے والے اشتہار مےں صوتی تاثرات اہم 
کردار ادا کرتے ہےں۔</p>

<p>		 اشتہار کے پےغام کی نغمانی تشکےل کو اشتہاری زبان مےں چنگلز کےا
جاتا ہے۔ جنگلز کو استعمال سمعی ذرےعہ ابلاغ اور سمعی و بصری ذرےعہ 
ابلاغ مےں کانوں کو بھلا محسوس ہوتا ہے، دلچپسی کا باعث بنتا ہے
 
								60(258)13 </p>

<p>اور پسند دےدگی کے حصول مےں معاوفت کرتا ہے۔</p>

<p>0ٹےلی وژن کی افادےت :</p>

<p>		 بعض ماہرےن تشہےر نے ٹےلی وژن کو تشہےر کا بہترےن ذرےعہ قرار 
دےا ہے اور گزشتہ چند سالوں کے دوران ٹےلی وژن کی مقبولےت مےں جس 
تےزی کے ساتھ اضافہ ہوا اس سے ان ماہروں کے نظرےہ کو تقوےت ملتی 
ہے لےکن اس کی جددےت اور اس کے استعمال مےں تےزی کے ساتھ
اضافے نے اس بات کا تعےن مشکل بنا دےا ہے کہ اسے بطور ذرےعہ تشہےر 
کس طرح موئثر طور پر استعمال کےا جاسکتا ہے ؟ تاہم ان ماہرےن کے 
نزدےک ٹےلی وژن جدےد دور کا بہترےن ذرےعہ تشہےر بن چکا ہے۔ اس کی 
وجہ ےہ ہے کہ اس کے پےغام کا اثر نہاےت سرعت کے ساتھ ہوتا ہے اور 
ےہ براہ راست متاثر کرکے عوام کے ذہن پر دےرپا نقوش ثبت کردےتا 
ہے۔ چنانچہ جہاں تک اس کی متاثر کرنے والی قوت کا تعلق ہے ےہ 
قوت اخبارات اور رےڈےو سے زےادہ موثر ثابت ہوچکی ہے۔ اس کے 
برعکس ٹےلی وژن کی کارکردگی اور اثر پزےری کا انحصار اس کے ذرےعے 
پےغامات نشر کرنے والوں پر ہوتا ہے۔ اگر وہ کوئی اشتہار آہستہ آہستہ 
تماشائی کے سامنے پےش کرے تو اس کا اثر زےادہ اور دےرےا ہوتا ہے جب 
کہ تےزی کے ساتھ نشر کےے جانے والے پروگرام تماشائےوں پر کوئی خاص
اثر نہےں ڈالتے۔ اس کے ساتھ ہی ےہ امر بھی قائل ذکر ہے کہ تحرےری 
پےغام کو جو اعتماد حاصل ہوتا ہے تصوےری پےغام اس سے محروم رہتا ہے۔
ٹےلی وژن پر اےک ہی پروگرام بار بار دہرانے سے وہ اعتماد حاصل کرنا 
مشکل ہے جو اےک اخباری اشتہار صارفوں کے دل مےں پےدا کر
دےتا ہے۔</p>

<p>		 نشرےاتی ذرائع کی کارکردگی کے متعلق عوام کی رائے کےسے معلوم
کی جائے؟ اس مقصد کے لےے متعدد طرےقے استعمال کےے جاتے ہےں۔ رےڈےو 
کے سامعےن کا ردِ عمل معلوم کرنے کا ابتدائی طرےقہ تو ےہ تھا کہ 
سامعےن کو خطوط کے ذرےعے اپنی رائے ظاہر کرنے کی دعوت دی جاتی 
تھی۔ چنانچہ رےڈےو پر سننے والوں کے خط پڑھ کر سنانے کا طرےقہ آج بھی 
رائج ہے اور ہمارے ہاں رےڈےو کی مرکزی دفتر مےں باقاعدہ اےک تحقےقاتی 
شعبہ بھی موجود ہے جو پروگرام کے متعلق سامعےن کی رائے کا جائزہ لےتا 
رہتا ہے۔ اس کے علاوہ  ہر بڑے شہر مےں رےڈےو کی مشاورتی کمےٹےاں بھی 
موجود ہےں جو ماہرےن اور دانش وروں پر مشتمل ہوتی ہےں۔ ےہ کمےٹےاں 
عوام کی رائے کے مطابق پروگراموں مےں رد و بدل کے لےے تجاروےز پےش 
 
								60(259)14 
کرتی رہتی ہےں۔</p>

<p>		 امرےکہ اور ےورپ کے ترقی ےافتہ ملکوں مےں عوامی رائے معلوم 
کرنے کے لےے جدےد مےکانکی طرےقوں سے بھی کام لےا جاتا ہے۔ کمپوٹر 
کی اےجاد نے عوام کی رائے معلوم کرنے اور اس سے نتائج اخز کرنے مےں 
کافی سہولت پےدا کردی ہے۔ ان ملکوں مےں صارفوں کے رجحان کا 
جائزہ لےنے کی خاطر باقاعدہ سروے کراےا جاتا ہے اور اس مقصد کے لےے
باقاعدہ تنظےمےں موجود ہےں۔ ےہ تنظےمں جو طرےقے اختےار کرتی ہےں ان
مےں ٹےلی فون کے ذرےعے رائے معلوم کرنے کا طرےقہ سب سے پرانا ہے۔ 
اس کے تحت رےڈےو کے سامعےن کو مختلف گروہوں مےں تقسےم کردےا جاتا
ہے (سماجی حےثےت، آمدنی، عمر، تعلےم وغےرہ کے لحاظ سے) اور پھر 
گروہ سے تعلق رکھنے والے چند اےک گھرانوں سے فون پر رابطہ قائم 
کرکے ان کی رائے معلوم کی جاتی ہے اور پوچھا جاتا ہے کہ اس وقٹ 
آپ رےڈےو پر جو پروگرام سن رہے ہےں وہ پسند ہے ےا نہےں۔ اس طرح 
فوری طور پر جواب مل جاتا ہے اور ہر گورہ کی پسند ےا ناپسندہ کا
اندازہ کرلےا جاتا ہے۔ بعض اوقات ےہ تنظےمےں رےڈےو کے سامعےن کو 
ڈائرےاں درج کرتے ہےں۔ بعد ازاں ان ڈائرےوں مےں درج خےالات کا جائزہ لے 
کر پروگراموں کی مقبولےت معلوم کرلی جاتی ہے۔ طرےق کار نہ صرف
کم خرچ ثابت ہوا بلکہ سامعےن کو بھی اس طرح اپنی رائے مکمل اور
جامع طور پر ظاہر کرنے کا موقع ملنے لگا۔</p>

<p>0تشہےر کے دےگر ذرائع :</p>

<p>		 گذشتہ صفحات مےں تشہےر کے بعض اہم ذرائع سے ... رےڈےو، 
ٹےلی وژن اور اخبارات ... پر بحث کی گئی ہے۔ ان کے علاوہ بھی اےسے
ذرائع موجود ہےں جو اس قدر اہم تو نہےں مگر چھوٹے پےمانے پر ان کا 
استعمال خاطر خواہ نتائج پےدا کرتا ہے۔ ان ذرائع مےں پوسٹر، دےواری 
اشتہارات، ہےنڈ بل اور نےون سائےز وغےرہ خاص طور پر قابل ذکر 
ہےں۔ پوسٹر اور دےواری اشتہارات کے استعمال ہمارے ہاں کافی عرصہ سے
ہورہا ہے۔ جب کہ نےون سائےز (Neon Signs) جدےد پےداوار ہےں اور 
ان کا استعمال روز بروز بڑھتا جارہا ہے۔</p>

<p>		 ان ذرائع کی مقبولےت کی کےا وجہ ہے؟ اس سوال کا جواب قدرے 
مشکل ہے مگر عموماََ دےکھا گےا ہے کہ پوسٹروں اور دےواری اشتہاروں 
 
								60(260) 15</p>

<p>کا استعمال قدرے آسان ہوتا ہے اور کم خرچ بھی۔ ہمارے ہاں ان ذرائع 
کو زےادہ تر فلموں کی تشہےر کے لےے استعمال کےا جاتا ہے۔ سےنما مالک 
ےا تقسےم کار بڑے بڑے پوسٹر چھپوا لےتے ہےں۔ ان کے لےے عمدہ کاغز بھی 
درکار نہےں ہوتا اور نہ ہی ان کو تزئےن کے لےے کسی اعلی پاےہ کے مصور 
ےا فنکار کی خامات درکار ہوتی ہےں۔ اس لےے ان کی تےار پر زےادہ رقم صرف
نہےں ہوتی بعد ازاں معمولی اجرت ادا کرکے چند اےک افراد کے ذرےعے ان 
کو تمام شہر مےں دےواروں پر چسپاں کرا دےا جاتا ہے۔ ان اشتہارات اور 
پوسٹروں کی اےک خصوصےت ےہ ہوتی ہے کہ آتے جاتے بار بار ان پر نظر پڑتی 
رہتی ہے محلے کے سامنے چسپاں اشتہار پر وہاں کے ہر سخص کی کم از 
کم صبح شام تو ضرور نظر پڑے گی اور جب تک ےہ اشتہار بوسےدہ 
ہوکر خود ہی اتر نہ جائے پھر آنے جانے والے کو متوجہ کرتا رہے گا
تاہم ےہ امر ضروری ہے کہ اےسے اشتہارات کی عبارت مختصر ہو ظاہر 
ہے کہ اےسے اشتہارات پر طوےل عبارت جلی قلم سے نہےں لکھی 
جاسکتی اس لےے ےہ بارےک عبارت دور سے نظر نہ آسکے گی اور راہگےر اس کی 
طرف کوئی توجہ بھی نہ دےں گے۔ ان اشتہارات پر سب سے بڑا اعتراض 
ےہ کےا جاتا ہے کہ ےہ درو دےوار کو بدنما بنا دےتے ہےں۔ مکانات کی 
دےواروں پر چسپاں اشتہارات، ان کے رنگ و روغن کو بھی خراب 
کرا دےتے ہےں۔ ےہ اعتراض بالکل بجا ہے اسی لےے بعض بڑے شہروں 
مےں بلدےہ کی جانب سے اشتہارات چسپاں کرنے کی جگہ مخصوص رقم ادا کرکے 
چوراہوں وغےرہ پر اپنے بورڈ نصب کرنے کی اجازت حاصل کرلےتے ہےں۔
نےون سائز نصب کرنے کے لےے بھی باقاعدہ اجازت حاصل کرنی پڑتی ہے۔
لاہور اور کراچی جےسے شہروں مےں متعلقہ حکام کو باقاعدہ فےس ادا
کرکے اہم مقامات چوراہوں رےلوے سٹےشن اور بس سٹےنڈ وغےرہ پر 
جگہ حاصل کر جاتی ہے۔ جہاں بورڈ اور نےون سائز نصب کی 
جاسکتی ہے۔</p>

<p>0چلتی پھرتی تشہےر (Mobile Publicity) :</p>

<p>		 اس نوعےت کی تشہےر مےں وہ اشتہارات، پوسٹر اور اشتہاری 
تصاوےر وغےرہ شامل ہےں جو بسوں اور رےل گاڑےوں وغےرہ کے اندر
اور باہر آوےزاں کی جاتی ہےں۔ رےل گاڑےوں مےں اشتہارات چسپاں کرنے 
کا طرےقہ مغربی ملکوں مےں تو رائج ہے مگر ہمارے ہاں اس کا رواج نہےں 
لےکن بسوں کے اندر اور باہر اشتہارات لگانے کا طرےقہ ہمارے ہاں نہاےت 
 
								60(261) 16</p>

<p>تےزی کے ساتھ مقبول ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی رےلوے سٹےشن اور 
بسوں کے اڈے پر اشتہارات لگانے کی رواےت بہت پرانی ہے اور اب اس
نے بہت سرعت کے ساتھ مقبولےت حاصل کرلی ہے۔ چنانچہ آج کل ہمارے
ہاں بسوں کے اندر اور باہر، اڈوں اور سٹےشنوں پر اشتہارات کی بھر مار 
نظر آتی ہے۔ ان مقامات پر اشتہار لگوانے کے لےے متعلقہ حکام سے رجوع 
کرنا پڑتا ہے۔ جو مناسب معاوضہ وصول کرنے کے بعد اشتہارات لگانے 
کی اجازت دے دےتے ہےں۔ ان اشتہاروں کی اقسام مختلف ہوتی ہےں اور 
اقسام کے لحاظ سے ہی ان کے معاوضہ کا تعےن کےا جاتا ہے مثلاََ بسوں کی 
پشت پر مستطےل ےا مستطےل نما لکڑی ےا ٹےن کے ٹکڑے آوےزاں کرکے 
ان پر اشتہار لکھ دےا جاتا ہے۔ جب کہ بس کے بالائی حصہ پر دو تےن 
فٹ چوڑا اور بس کی لمبائی جتنا طوےل اشتہار لگاےا جاتا ہے۔ بسوں اور 
رےلوے سٹےشنوں پر اشتہار لگوانا از حد سود مند ثابت ہوا ہے کےونکہ 
اےسے اشتہارات روزانہ ہزاروں افراد کی نظر سے گزرتے ہےں اور پھر ےہ 
اشتہارات اےک علاقے ےا شہر تک ہی محدود نہےں رہتے بلکہ ہر جگہ کے 
لوگوں کو ےہ اشتہار دےکھنے کا موقع ملتا ہے۔ ےہی حال رےلوے سٹےشن 
کا ہے جہاں دن مےں ہزاروں افراد آتے جاتے رہتے ہےں اور ظاہر ہے کہ 
ان مےں سے کم از کم دو تہائی افراد ضرور ےہ اشتہار دےکھتے ہےں۔</p>

<p>		 بسوں، اڈوں اور رےلوے سٹےشنوں کے علاوہ دکانےں اور مراکز 
کاروبار بھی اشتہارات چسپاں کرنے کے لےے از حد موزوں مقامات ہےں 
ےوں تو پھر دکان کا بورڈ ہی اےک اشتہار کی حےثےت رکھتا ہے مگر تاجر 
حضرات اپنی دکان کے علاوہ ارد گرد متعدد مقامات پر اشتہارات لگا کر 
گاہکوں کو متوجہ کرلےتے ہےں گو ان اشتہارات کی نوعےت محدود ہوتی
ہے مگر ےہ دکان کو متعارف کرانے مےں کافی حد تک معاون ثابت ہوتے
ہےں۔ اس طرےق کار کا فائدہ ےہ ہوتا ہے کہ گاہکوں کو آسانی کے ساتھ
معلوم ہوجاتا ہے کہ ان کی مطلوبہ اشےا کون سی دکان ےا کاروباری 
مرکز سے مل سکتی ہےں۔ اس طرح ان کو تلاش کرنے کے لےے وقت 
صائع کرنا نہےں پڑتا۔</p>

<p>		 تشہےر کا اےک اہم ذرےعہ ٹَےلی فون ڈائرےکٹری بھی ہے۔ اس 
ذرےعہ کو ہمارے ہاں کافی عرصہ سے استعمال کےا جارہا ہے اور اس کے 
خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے ہےں۔ کےونکہ ٹےلی فون ڈائرےکٹری استعمال 
کرنے والے لوگ کافی متمول طبقے سے تعلق رکھتے ہےں اس لےے ڈائرےکٹری </p>

<p>				30۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>

<p>               0 
</p></body></text></cesDoc>